سلسلہ احمدیہ — Page 33
33 تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی تحریک قرآن کریم وہ عظیم نعمت ہے جو مسلمانوں کو عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ بھی فرمایا۔حضرت عثمان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے (۱) اور حضرت مسیح موعود کو الہام بتایا گیا تھا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ (۲) یعنی تمام خیر قرآن میں ہے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی صداقت اور عظمت کا کامل عرفان عطا ہوا تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔وو لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے برکاتِ الہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولا کریم سے ہو جاتا ہے۔خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے منہ سے نکلتے ہیں۔ایک قوی تو کل ان کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے۔(۳) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنی خلافت کے آغاز میں ہی یہ بات محسوس فرمائی اور آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ قرآنِ کریم سیکھنے سکھانے اور اس کا عرفان حاصل کرنے کے لحاظ سے جماعت میں کمزوری اور ضعف پیدا ہو رہا ہے۔اور بہت سی جماعتوں میں تربیتی نقطہ نگاہ سے کافی کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا: ”۔۔۔اس کے نتیجہ میں جماعت کی تربیت والا پہلو ہمیں بھولا رہا۔جماعت نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔تربیت کے سلسلہ میں اس غفلت کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔قرآن کریم کے انوار کو پھیلانے کی ذمہ داری ہمارے سپر دتھی۔ہم نے اس سے غفلت برتی اور اس کے نتیجہ میں ہماری روحانی ترقی بہت پیچھے جا پڑی لیکن جب ہم قرآن کریم سے غافل ہوئے تو قرآنِ کریم کی برکتیں بھی ہم سے جاتی رہیں۔ہم ان سے محروم ہو گئے اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ قرآن کریم کی برکتیں تو ہمیں تبھی مل سکتی ہیں جب