سلسلہ احمدیہ — Page 396
396 ?the writer یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قول سدید سے فرمایا۔really do not know یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔حضور نے اگلا سوال یہ فرمایا? What is the standing of this publication یعنی اس اشاعت یا جریدہ کی حیثیت کیا ہے؟ یعنی کیا یہ کوئی معیاری جریدہ ہے یا کوئی غیر معیاری جریدہ ہے۔اس کی حیثیت ایسی ہے بھی کہ نہیں کہ اس کے لکھے کو ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرما یا May be nothing at all Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیں ہے۔خیر اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے دریافت فرمایا: Have we any thing to do with this یعنی کیا ہمارا اس تحریر سے کوئی تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ موصول ہوا Nothing I do not say you have any thing to۔۔۔۔۔۔d0 یعنی کوئی نہیں ، میں یہ نہیں کہ رہا کہ آپ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔اب یہ ایک عجیب مضحکہ خیز منظر تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پوری قو می اسمبلی پر مشتمل پیشل کمیٹی میں ایک جریدہ کی ایک تحریر بطور دلیل کے پیش کر رہا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ تحر یکھی کس کی ہوئی ہے، اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس جریدہ کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں۔بہر حال انہوں نے حوالہ پڑھنے کا شوق جاری رکھا اور ایک طویل اقتباس پڑھا۔اس کی تحریر اور ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر بہکتے چلے جانا ہی بتا رہا تھا کہ یہ ایک غیر معیاری تحریر ہے۔لیکن اس کا لب لباب یہ تھا کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیا ہے اور بعض وہ اعتراضات دہرائے جن کا جواب پہلے ہی گزر چکا ہے۔لیکن جس حصہ کو اٹارنی جنرل صاحب نے بہت زور دے کر پڑھا اس میں دواعتراضات تھے جن کا مختصراً ذکر کرنا مناسب ہوگا۔ایک اعتراض تو اس تحریر میں یہ کیا گیا تھا کہ جب پنجاب کے باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کا مقدمہ پیش ہو رہا تھا تو At the time of independance and demarcation of boundries the Qadianis submitted a representation as a