سلسلہ احمدیہ — Page 397
397 group seperate from Muslims۔This had the effect of decreasing the proportion of the Muslims population in some marginal areas in the Punjab and on consequent award Gurdaspur was given to India to enable her to have link with Kashmir۔یعنی آزادی کے وقت جب سرحدوں کے خطوط کھینچے جارہے تھے ، اس وقت قادیانیوں نے مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ کے طور پر اپنا موقف پیش کیا۔اور اس کے نتیجہ میں پنجاب کے بعض سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہوگئی اور بعد میں گورداسپور کو بھارت کو دے دیا گیا اور اس طرح وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ کشمیر سے رابطہ پیدا کر سکے۔ہم پہلے اُس دور کا جائزہ لے چکے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ الزام بالکل غلط تھا۔احمدیوں نے مسلم لیگ کی اعانت کے لیے اپنا میمورنڈم پیش کیا تھا۔مسلم لیگ نے خود اپنے وقت میں سے جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا کہا تھا۔اور احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کا حصہ قرار دے کر کے استدعا کی تھی کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کے ساتھ شامل کیا جائے۔سکھوں نے اپنا موقف پیش کیا تھا کہ ہمارے مقدس مقامات جن اضلاع میں ہیں ان کو بھارت میں شامل کیا جائے کیونکہ ہم بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں جماعت احمدیہ نے یہ میمورنڈم پیش کیا تھا کہ قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہم مسلمان ہیں اور پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا انتخاب کیا تھا۔اور جتنی جدوجہد کی تھی حضرت چوہدری صاحب اور جماعت احمدیہ نے کی تھی ورنہ پنجاب کی مسلم لیگ تو فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہی تھی۔یہ سب تفصیلات تو پہلے ہی گزر چکی ہیں۔لیکن یہاں ذکر ضروری ہے کہ خود حکومت پاکستان نے یہ سب کارروائی مع جماعت کے میمورنڈم کے ۱۹۸۳ء میں حرف بحرف شائع کی۔اور یہ دور جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف جنرل ضیاء صاحب کے دور صدارت کا تھا۔اس کتاب کا نام The partition of the Punjab ہے اور اس کی پہلی جلد میں جماعت کا میمورنڈم حرف بحرف نقل کیا گیا ہے۔اس کے چند حوالے پیش خدمت