سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 395 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 395

395 چاہئے تھا۔لیکن اب ان کے لیے عجیب صورت حال پیدا ہوئی تھی کہ جس روز کے الفضل کا وہ حوالہ اس طمطراق سے پیش کر رہے تھے ، اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔کیونکہ اس دور میں الفضل روزانہ شائع نہیں ہوتا تھا۔اب اپنی خفت کو چھپانے کے لیے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک اور ذہنی قلا بازی کھائی اور فرمایا کہ ۱۹ ر جنوری میں یا کسی اور شمارہ میں یہ چھپا ہوگا۔ان کی یہ عجیب وغریب دلیل پڑھ کر تو ہنسی آتی ہے۔یہ صاحب قومی اسمبلی کی ایک اہم کمیٹی میں ایک حوالہ پیش کر رہے تھے اور دوروز میں ایک سے زائد مرتبہ پیش کر چکے تھے۔اور علماء کی ایک ٹیم اس کام میں ان کی اعانت کر رہی تھی۔اور اس حوالہ کی بنا پر وہ اپنے زعم میں جماعت احمدیہ کے خلاف کیس مضبوط کر رہے تھے اور ابھی انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حوالہ کس تاریخ کا تھا۔اس پر حضور نے واضح الفاظ میں فرمایا ” نہیں نہیں ، یہ کسی Issue میں نہیں ہے۔کسی حوالہ میں نہیں ہے۔یہ بنایا گیا ہے۔اس پر پاکستان کی قابل قومی اسمبلی کے نمائندہ نے جو کچھ کہا اس سے ان کی ذہنی اور علمی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے فرمایا: اس لئے آپ کو اخبار معلوم ہونا چاہئے۔“ یعنی حوالہ اٹارنی جنرل صاحب پیش فرما رہے ہیں اور جماعت احمد یہ پر اعتراض اٹھانے کے لیے پیش فرما رہے ہیں اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ جس روز کی اشاعت کا وہ حوالہ پیش کر رہے ہیں ،اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔اور یہ عبارت الفضل میں شائع ہی نہیں ہوئی۔اور اٹارنی جنرل صاحب بجائے حوالہ پیش کرنے کے جماعت کے وفد سے فرمائش کر رہے ہیں کہ آپ کو اخبار معلوم ہونا چاہئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب کے ہاتھوں سے ہوش کا دامن بھی چھوٹ رہا تھا۔حضور نے فرمایا وو۔۔یہ فائل پڑا ہے نکال دیں۔“ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بات ختم کی۔اب انہوں نے حوالہ جات کے علم سے باہر نکل کر علم تاریخ کا رخ کیا۔اور اپنی دلیل کے طور پر ایک انگریزی جریدہ کا طویل حوالہ پڑھنا شروع کیا۔جریدہ کا نام Impact تھا اور یہ ۲۷ جون ۱۹۷۴ء کا حوالہ تھا۔ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا فرمانا چاہ رہے ہیں کہ حضور نے اس جریدہ کی اس تحریر کے متعلق ان سے استفسار فرمایا Who is