سلسلہ احمدیہ — Page 382
382 میں ہجرت کر کے پاکستان آیا ہے ان سے ان وائس چانسلر صاحب نے ایک فرقہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان میں سے جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں ہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ایک اور فرقہ کے متعلق دریافت کیا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں تو ان کے متعلق ان مولوی صاحب نے فتویٰ دیا کہ وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم جو ۳۲،۳۰ علماء کے گروہ کا کرتا دھرتا تھے۔انہوں نے اسلامی نظام کا ایک مجوزہ دستور تیار کیا ہے اور اس میں یہ لازمی قرار دیا ہے کہ ہر فرقہ کو تسلیم کر لیا جائے سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔وہ واجب القتل ہیں مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں۔موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہی میں سے ایک دوسرے عالم نے بیان کیا کہ اس وقت ہم نے ایک فرقہ سے جہاد فی سبیل اللہ کے کام کا آغاز کیا ہے اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسرے فرقوں کی خبر لی جائے گی۔یہاں ہم یہ وضاحت کرتے چلے جائیں کہ حضور نے اس موقع پر ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کی کتاب ”اقبال اور ملا“ کا حوالہ دیا تھا۔یہ کتاب بزم اقبال، کلب روڈ لاہور کے تحت شائع ہوئی تھی۔اس کا کچھ متعلقہ حصہ درج کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس کتاب کے صفحہ ۶۸۔۲۹ پر لکھتے ہیں: تقسیم ملک میں بڑے بڑے اقتدار پسند اور کج اندیش ملا تو ادھر ہی رہ گئے لیکن پاکستان کے شدید مخالفوں میں سے دو چار پاکستان پر قبضہ کرنے کے لئے ادھر آگئے۔کوئی شیخ الاسلام کا خواب دیکھنے لگا اور کوئی دینی آمریت کا۔دنیا میں دوسرے مذاہب نے بڑی بڑی تنظیمات تبلیغ کے لئے قائم کر رکھی ہیں جہاں لاکھوں انسان جان و مال کی قربانی سے بودے مذہب کو بھی مضبوط کر دیتے ہیں۔ملا کو کبھی تبلیغ کی توفیق نہیں ہوئی۔اسے مومنوں کو کا فر بنانے سے فرصت نہیں۔فلاں کے پیچھے نماز پڑھو تو کا فریا بیوی کو طلاق ، فلاں فرقہ واجب القتل ، فلاں فرقہ واجب التعزیر۔پاکستان کی ایک یو نیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ملائے اعظم اور عالم مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہوا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ایک اور فرقے -