سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 383 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 383

383 کے متعلق پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں۔فرمایا وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم ان تہیں بنتیں علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقہ کو تسلیم کر لیا جائے سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ہیں تو وہ بھی واجب القتل ، مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں۔موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک دوسرے سر براہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقہ کے خلاف شروع کیا ہے۔اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی خبر لی جائے گی۔“ واضح رہے کہ مصنف کوئی احمدی نہیں تھا بلکہ کتاب کا سرسری مطالعہ ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ مصنف جماعت احمدیہ کے عقائد سے شدید اختلاف رکھتا تھا لیکن ملا کے عزائم کوئی ایسے ڈھکے چھپے نہیں تھے کہ ملک کے پڑھے لکھے لوگوں کو اس کی خبر ہی نہ ہو۔جس طرح اب وطن عزیز میں مسلمانوں کے واجب القتل قرار دے کر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور جس طرح تنگ نظر طبقہ ہر ذریعہ استعمال کر کے ملک کے کسی نہ کسی حصہ پر اپنا تسلط جمانا چاہ رہا ہے اس سے یہ صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ خیالات محض وہم نہیں تھے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ” مرزا غلام احمد نے آئینہ صداقت میں۔یہ ان کی تصنیف ہے؟ اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تصنیف کا نام آئینہ صداقت نہیں ہے تو پھر یچی بختیار صاحب نے کچھ بے یقینی کے عالم میں کہا کہ پھر مرزا بشیر الدین کی ہوگی۔یہ عجیب غیر ذمہ داری ہے کہ آپ خود ایک کتاب کا حوالہ پیش کر رہے ہیں اور اس کے مصنف کا نام تک آپ کو معلوم نہیں اور کبھی ایک نام لیتے ہیں اور کبھی دوسرا نام لیتے ہیں اور یقین سے کہہ نہیں سکتے کہ کس کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔اس طرح سے تو کوئی سنجیدہ کارروائی یا بحث نہیں ہو سکتی اور نہ اس قسم کے انداز کو کوئی قابل توجہ سمجھ سکتا ہے۔پھر انہوں نے کسی کتاب نهج معلا کا حوالہ دیا جس کا انہیں خود علم نہیں تھا کہ کس کی لکھی ہوئی ہے اور یقیناً کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اورخلفاء کی تحریر کردہ کتب میں اس نام کی کوئی کتاب نہیں۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے دریافت فرمایا کہ یہ کس کی لکھی ہوئی ہے تو اٹارنی جنرل صاحب