سلسلہ احمدیہ — Page 381
381 اٹارنی جنرل صاحب کو یہ مغالطہ ہو گیا کہ یہ صرف شرعی نبیوں کے بارے میں ہے۔حالانکہ آیت میں کہیں پر صرف شرعی نبیوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ سورۃ بقرۃ میں اس مضمون کی جو دوسری آیت یعنی آیت نمبر ۱۳۷ ہے اس میں اس مضمون کے بیان سے قبل حضرت اسحق ، حضرت اسماعیل اور حضرت یعقوب جیسے غیر شرعی نبیوں کا ذکر بھی ہے۔بہر حال پھر بحث شروع ہوئی کہ کون ملتِ اسلامیہ میں رہتا ہے اور کون اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کسی ممبر کی طرف سے کیا گیا سوال اُٹھایا کہ ” مرزا غلام احمد صاحب نے عبد الحکیم کو جو پہلے مرزا غلام احمد کا مرید تھا۔پھر اس سے شدید اختلاف کیا۔یا اس کی حیثیت نبوی ماننے سے انکار کیا تو مرزا غلام احمد نے اسے مرتد قرار دیا؟ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳)۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے نے سطحی معلومات بھی حاصل کیے بغیر حوالہ دے کر سوال کر دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے اس عقیدہ کا اظہار کیا تھا کہ نجات کے لیے آنحضرت پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔جب کہ جماعت احمدیہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد صلى الله مصطفے ﷺ پر ایمان لائے بغیر نہ تو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کوئی روحانی مدارج حاصل ہو سکتے ہیں۔چونکہ اس کا یہ عقیدہ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقیدہ سے ہی مختلف تھا اس لیے حضرت مسیح موعود نے اس کا اخراج فرمایا تھا۔اور اس معاملہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔اور حقیقۃ الوحی کے جس مقام کا حوالہ دیا جار ہا تھا وہاں پر عبد الحکیم کے اخراج کا ذکر وو نہیں تھا ایک بالکل اور مضمون بیان ہورہا تھا۔البتہ عبدالحکیم کو لکھے گئے ایک خط کا ذکر تھا۔اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد الحکیم کے ارتداد کی جو وجہ تحریر فرمائی تھی وہ بیتھی : وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحکیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات اخروی حاصل کرنے کیلئے آنحضرتی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے( گوآنحضرت کا مکذب ہے) وہ نجات پائے گا۔(روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۱۲) پھر بات آگے چلی تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک تحریر کا حوالہ دے کر بیان فرمایا کہ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بیان کیا کہ ایک مقتدر عالم جو حال ہی میں کافی سوچ بچار کر کے حال ہی صلى الله