سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 362 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 362

362 کہہ سکتا، جومیت پر چیخ کر روئے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، جو نماز ترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ، جو غیر اللہ کی قسم کھائے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہ سکتا۔ظاہر ہے مندرجہ بالا صورت محض فتنہ کا دروازہ کھولنے والی بات ہوگی اور زمانہ نبوی ﷺ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح جماعت کے لٹریچر میں جن چند جگہوں کے حوالے ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں بھی دیئے گئے تھے اور اب بھی دیئے جا رہے تھے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو کفر لکھا گیا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو دائرہ اسلام سے نکلنے کا مترادف لکھا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں یا انہیں یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں۔اس کی وضاحت بار ہا جماعتی لٹریچر میں دی گئی ہے۔جب ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر غور کرنے کے بعد اس دیانتدارانہ نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ دعاوی غلط ہیں تو کیا ایسا شخص مسلمان رہے گا ؟ تو اس پر حضور نے جواب دیا کہ ہاں عمومی طور پر اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔اور اسی کا روائی کے دوران جب جماعت اسلامی کے وکیل چوہدری نذیر احمد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے سوال کیا : ” کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب آئینہ صداقت کے پہلے باب میں صفحہ ۳۵ پر ظاہر کیا تھا۔یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کا فر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔اس کے جواب میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے فرمایا: یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔پس جب میں کافر کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج