سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 361 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 361

361 ہے جس کے لئے اللہ اور رسول کی امان ہے پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی امان میں بے وفائی نہ کرو۔“ (صحیح بخاری ، کتاب الصلوة ـ باب ۲۶۹) اور اس سے اگلی حدیث میں ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا، ہماری طرح نماز پڑھی ہمارے قبلہ کو اپنایا، ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کا خون ہمارے لئے حرام ہے اور ان کا حساب لینا اللہ تعالیٰ پر ہے۔اس مضمون کی احادیث دوسری معتبر کتب احادیث میں بھی بیان ہوئی ہیں مثلاً سنن ابو داؤد کتاب الجہاد میں اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ جس نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھا، ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا، ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہماری نماز پڑھی اس کا خون ہم پر حرام ہے، جو مسلمانوں کا حق ہے وہ ان کا حق ہے اور ان پر وہ حق ہے جو مسلمانوں پر ہے۔ان احادیث سے یہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ قانونی طور پر جو مذکورہ بالا معیار پر پورا اترے وہ مسلمان شمار ہوگا اور اس کو عرف عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملت اسلامیہ کا ہی حصہ سمجھا جائے گا اور ان کے باقی اعمال کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔اگر چہ پہلے بیان شدہ احادیث میں بہت سے ایسے اشخاص کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اعمال کے نتیجے میں کفر کیا ہے۔یہ امر قرآن کریم کے الفاظ کی معروف ترین لغت مفردات امام راغب میں بھی بیان ہوا ہے۔مفردات امام راغب میں لفظ اسلام کی وضاحت میں لکھا ہے کہ شرعاً اسلام کی دو قسمیں ہیں۔اگر کوئی شخص زبان سے اقرار کر لے۔دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کی جان مال عزت محفوظ ہو جاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے۔اور دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ دلی اعتقاد بھی ہو اور عملاً اس کے تقاضوں کو پورا بھی کرے۔لیکن جماعت احمدیہ کا یہی مسلک رہا ہے جو شخص ان قسم کی صورتوں میں ، احادیث نبویہ کی روشنی میں جن کی چند مثالیں اوپر دی گئی ہیں ، غلط افعال یا عقائد کی وجہ سے، دائرہ اسلام سے خارج بھی ہو لیکن وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو تو بھی اسے عرف عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملتِ اسلامیہ میں ہی شمار ہو گا اور قانون کی رو سے اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔اس کا حساب اللہ تعالیٰ لے گا۔حکومتوں یا انسانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس سے یہ حق چھینیں۔ورنہ تو یہ بھی ماننا پڑے گا جو شخص تین جمعے عمد اترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں