سلسلہ احمدیہ — Page 363
363 نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ ۲۴۰ پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دون الایمان اور دوسرے فوق الایمان۔دون الایمان میں وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔فوق الایمان میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے میں نے جب یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔مشکوۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جوشخص کسی ظالم کی مدد کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔“ ( تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمد یہ کابیان، ناشراحم یه کتابستان حیدر آباد ص ۲۰،۱۹) اور اس کا رروائی کے دوران ۶ / اگست کو جب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث سے سوال کیا گیا کہ ایسی صورت میں اگر کسی شخص کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو کیا پھر بھی مسلمان ہوگا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں وہ ملت اسلامیہ کا فرد ہو گا۔اور وہ بعض جہت سے مسلمان ہے اور بعض جہت سے کافر ہے۔اور کے راگست کو جب دو پہر کے سیشن کی کارروائی ہوئی ہے تو اس میں حضرت خلیفہ امسح الثالث نے اس موقع پر بھی یہ فرمایا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے اب تک دو مختلف گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں ایک وہ مخلصین جنہوں نے اسلام کو اچھی طرح قبول کیا اور ان لوگوں نے رضا کارانہ طور پر اپنی مرضی اور اختیار سے اپنی گردنیں خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کر دیں۔اپنے اخلاق کے مطابق خدا کی راہ میں قربانی کرنے والا اور تمام احکامات پر عمل کرنے والا یہ ایک گروہ ہے۔اس کے ساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو اس مقام کا نہیں ہے۔حضور نے حدیث کا حوالہ دے کر فرمایا کہ رسول کریم ہ کے زمانہ سے بعض گناہوں کے متعلق کفر کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور ساتھ ہی ان کو مسلمان بھی کہا جاتا تھا۔اور حضور نے یہ آیت کریمہ پڑھی: قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا (الحجرات : ۱۵)