سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 334 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 334

334 بھی گئے۔باقی زخمی پلیٹ فارم سے نیچے عقب میں گاڑی کی پٹری پر یا پلیٹ فارم پر ستونوں اور پل کی اوٹ میں ہو گئے۔جب فائرنگ شروع ہوئی تو خاکسار اس وقت سیڑھیاں چڑھ کر پل کے شروع میں تھا اور اس سارے منظر کو دیکھ رہا تھا۔اس وقت ایک دیوانگی کے عالم میں خاکسار اور دو تین اور دوستوں نے بھاگ کر زخمیوں تک پہنچنے اور گرے ہوؤں کو گھسیٹ کر ادھر ادھر چھپانے کی کوشش کی۔انہی لمحات میں ایک دو غنڈوں کو دونوں پلیٹ فارموں کی درمیانی پڑی کو پھلانگ کر ہاتھوں میں ہا کی اور خنجر لئے ادھر آتے دیکھا تو ہم نے فوراً پلیٹ فارم سے اتر کر پٹڑی سے پتھر اٹھا کر انہیں تاک کر مارے۔ہمارے پتھر انہیں کاری لگے اور وہ واپس بھاگ گئے۔ان حملہ آوروں میں سے جو اس پلیٹ فارم پر آتا وہ ہمارے پتھروں کا نشانہ بنتا اور پسپا ہو جاتا۔اس سارے وقت گولیاں مارنے والے مجاہد ہم پر گولیاں برساتے رہے جو ہمارے عقب میں کھڑی مال گاڑی پر لگ لگ کر آواز میں کرتی رہیں۔ہم موت سے بے خبر ایک دیوانگی کے علم میں ان پر پتھر برساتے رہے۔اس اثنا میں ریاض صاحب کوگرنے کی وجہ سے گھٹنے پر چوٹ آگئی۔کچھ دیر بعد راشد حسین صاحب کے سینے میں بھی گولی لگ گئی۔اب ہم دو تھے جنہوں نے اس وقت تک ان میں سے ایک ایک پر پتھر برسائے جب تک کہ وہ بھاگ نہ گئے۔اس وقت اگر یہ دفاع نہ ہوسکتا تو وہ یقیناً اس پلیٹ فارم پر آکر ہمارے زخمیوں کو شہید کر دیتے۔بہر حال جب گولیوں کی آواز ختم ہوئی تو ایک سناٹا چھا گیا۔ہم بھی اور بعض دوسرے دوست بھی فوراً ہی پلیٹ فارم پر آگئے اور زخمیوں کو سنبھالنے لگے۔اسی اثنا میں گاڑی بھی آگئی۔ہم زخمیوں کو سہارے دے کر اس میں چڑھانے لگے کہ اچانک ریلوے پولیس والے آگئے اور ہمیں رپورٹ لکھوانے پر زور دینے لگے۔امیر قافلہ محمد احمد صاحب دو تین گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی تھے۔چنانچہ خاکسار پولیس والوں سے نپٹ رہا تھا۔ہم بضد تھے کہ گاڑی فوراً چلائیں تا کہ ربوہ جا کر زخمیوں کا علاج شروع ہو، رپورٹ ہم گاڑی کے اندر ہی لکھا دیں گے۔وہ مصر تھے کہ پہلے وقوعہ پر رپورٹ درج ہوگی پھر گاڑی چلے گی۔ایک بے بسی کا عالم تھا۔اتنے میں سرگودھا کا ایک پولیس انسپکٹر عبدالکریم نامی بھی آگیا۔اس نے سفید شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور ہیئت اور فطرت کا خالص چودھویں صدی کا مولوی تھا۔وہ بھی پولیس