سلسلہ احمدیہ — Page 333
333 احمد یوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔جس روز فائرنگ ہوئی، اس سے ایک دو روز قبل ربوہ سے جو دوست اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لئے سرگودھا جیل گئے تھے ان کو ملاقات کے بعد راستہ میں زدوکوب کیا گیا۔اس واقعہ کے پیش نظر صد ر صاحب عمومی نے ۱۶ / جولائی کو ملاقات کے لئے جانے والے دوستوں کو منظم طریق پر جانے کی ہدایت فرمائی اور مکرم محمد احمد صاحب لائبریرین تعلیم الاسلام کالج ربوہ (حال جرمنی ) کوامیر قافلہ بنایا۔اس قافلہ کے چالیس سے زائد افراد میں خاکسار اور خاکسار کے نانامحترم ماسٹر راجہ ضیاء الدین ارشد شہید شامل تھے۔خاکسار کے ماموں مکرم نعیم احمد صاحب ظفر اور خاکسار کے بڑے بھائی اشرف علی صاحب بھی جیل میں تھے۔ہم دونوں ان سے ملاقات کی غرض سے گئے تھے۔۱۶ جولائی کی شام کو جب ملاقات کے بعد ربوہ واپسی کے لئے اسٹیشن پہنچے تو ابھی گاڑی کی آمد میں کچھ دیر تھی۔ہم سب اکٹھے تیسرے درجہ کے ٹکٹ گھر میں انتظار کرنے لگے۔یہ ٹکٹ گھراسٹیشن کی عمارت کے ساتھ مگر اس کے جنگلے سے باہر تھا۔جب ٹکٹوں والی کھڑ کی کھلی تو اکثر لوگ ٹکٹ لینے کے لئے قطار میں لگ گئے۔بعض نے جب ٹکٹ لے لئے اور مختار احمد صاحب آف فیکٹری ایریا کی باری آئی تو ٹکٹ دینے والے نے کہا: ربوہ کے ٹکٹ ختم ہو گئے ہیں ، آپ لالیاں یا چنیوٹ کا ٹکٹ لے لیں، ویسے پتہ وو نہیں آپ لوگوں نے ربوہ پہنچنا بھی ہے یا نہیں۔“ تھوڑی دیر میں ہم سب چنیوٹ وغیرہ کی ٹکٹیں لے چکے تھے۔گاڑی کا وقت بھی قریب تھا چنانچہ دو دو چار چار افراد باتیں کرتے ہوئے اسٹیشن کی بائیں جانب جنگلے کے ایک دروازے سے پہلے پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر جانے کے لئے درمیانے پل کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے۔جب کچھ لوگ سیڑھیوں پر تھے اور کچھ پل پر اور کچھ پل سے دوسرے پلیٹ فارم کی سیڑھیوں پر اتر رہے تھے کہ اچانک پہلے پلیٹ فارم پر پولیس کے کمرہ کے سامنے سے چند غنڈوں نے سیٹرھیوں سے اترنے والوں پر فائرنگ شروع کی۔پولیس کے تین چارسپاہی ان حملہ آوروں کی پشت پر کھڑے تھے۔اس فائرنگ سے ابتدا ہی میں ہمارے دس لوگ زخمی ہو گئے اور ان میں سے دو تین دوسرے پلیٹ فارم پرگر