سلسلہ احمدیہ — Page 335
335 والوں کے ساتھ مل کر اصرار کرنے لگا کہ رپورٹ پہلے لکھواؤ۔اس وقت صرف خاکسار تھا جو اُن سے بحث کر رہا تھا۔اس تکرار کے دوران اچانک ایک جیپ پلیٹ فارم پر آکر رکی۔جس میں سے سفید پتلون شرٹ میں افسرانہ شان سے ایک شخص اترا۔اس نے ایک لمحے میں صورتحال کا اندازہ کیا اور خاکسار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ فکر نہ کرو ، ہم یہاں سرگودھا میں ہی انہیں فوری طبی امداد دیں گے۔اس غرض کے لئے دو ایمبولینسیں پہنچ رہی ہیں۔اس نے بتایا کہ وہ یہاں کا کمشنر ہے اور ہر قسم کے انتظامات ہو چکے ہیں۔اس کی شرافت اور بردباری قابل تعریف تھی۔اتنے میں دو ایمبولینسیں پلیٹ فارم پر پہنچ گئیں۔اس وقت تک بکھرے ہوئے بہت سے احمدی دوست یہاں جمع ہو چکے تھے۔ہم سب نے ایمبولینس والوں کے ساتھ فوری طور زخمیوں کو گاڑی سے اُتارا اور ایمبولینس میں سوار کیا۔کمشنر صاحب نے خاکسار کو بھی زخمیوں کے ساتھ ایمبولینس میں جانے کا کہا۔چنانچہ ہم سب ہسپتال چلے گئے۔جہاں فوری طور پر زخمیوں کو خون دیا گیا اور مرہم پٹی وغیرہ کی گئی۔خاکسار کو زخمیوں کے ساتھ ہسپتال میں ہی رکھا گیا۔ہسپتال کے باہر اور ہمارے زخمیوں کے وارڈ کے باہر کمشنر سرگودھا کی طرف سے پولیس کا کڑا پہرہ لگا دیا تھا اور ہماری حفاظت کا خاص خیال رکھا گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ ہسپتال کے CMO احمدی تھے۔بہر حال اسی وقت ہر زخمی کے زخموں کا اندازہ بھی کیا گیا اور اس کے مطابق ان کے علاج بھی معتین کئے گئے۔ان میں خاکسار کے نانا مکرم ماسٹر ضیاءالدین ارشد صاحب کی حالت تشویشناک تھی کیونکہ گولی ان کے کان کے اوپر لگی تھی اور دماغ میں داخل ہو گئی تھی۔ایک اور غریبانہ ہیئت کے نوجوان تھے جو سیالکوٹ کے کسی گاؤں سے اپنے کسی عزیز سے ملنے آئے تھے۔ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی جو چند انتڑیوں کو کاٹتی ہوئی معدے میں جاڑ کی تھی۔ان کا آپریشن پہلی رات ہی کیا گیا اور گولی نکال کے انتڑیاں سی دی گئیں اور وہ جلد صحت یاب ہو گئے۔را شد حسین صاحب جنہیں دفاع کرتے ہوئے سینے میں گولی لگی تھی۔ان کی حالت بھی ٹھیک نہ تھی کیونکہ گولی سینے سے پھیپھڑوں میں سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ آکر ٹھہر گئی تھی۔اس وجہ سے وہ نکالی نہ جاسکتی تھی۔پھیپھڑوں کی حد تک تو ان کا علاج ہو گیا۔مگر گولی ان کے اندر ہی رہی