سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 325 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 325

325 جماعت احمدیہ کا محضر نامہ اس مرحلہ پر مناسب ہوگا کہ جماعت احمد یہ کے محضر نامہ کا مختصر جائزہ لیا جائے۔یہ محضر نامہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی ہدایات کے تحت تیار کیا گیا تھا اور ایک ٹیم نے اس کی تیاری پر کام کیا تھا۔ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر اور حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اسے پیشل کمیٹی کے مطالعہ کے لیے بھجوایا گیا تھا اور اس میں بہت سے بنیادی اہمیت کے حامل اور متنازعہ امور پر جماعت احمدیہ کا موقف بیان کیا گیا تھا۔اس کے پہلے باب میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی مذکورہ قرار دادوں پر ایک نظر ڈال کر یہ اصولی سوال اُٹھایا گیا تھا کہ آیا دنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہ اس بات کی مجاز ہے کہ اول : کسی شخص کا یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔دوم : یابند ہی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذہب ہے؟ پھر اس محضر نامہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے اس اہم سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا ” ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ ونسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع مسیح نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ کے دستور العمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔اسی طرح پاکستان کے دستور اساسی میں بھی دفعہ نمبر ۲۰ کے تحت ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔اس لئے یہ امر اصولاً طے