سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 326 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 326

326 ہونا چاہئے کہ کیا یہ کمیٹی پاکستان کے دستور اساسی کی رو سے زیر نظر قرارداد پر بحث کی مجاز بھی ہے یا نہیں؟“ اگر قوم یا اسمبلی اس راستہ پر چل نکلے تو اس کے نتیجہ میں کیا کیا ممکنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، ان کا مختصر جائزہ لے کر یہ انتباہ کیا گیا۔” ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً ، قابل قبول نہیں ہوسکتیں اور بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔کوئی قومی اسمبلی اس لئے بھی ایسے سوالات پر بحث کی مجاز قرار نہیں دی جاسکتی کہ کسی بھی قومی اسمبلی کے ممبران کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مذہبی امور پر فیصلے کے اہل بھی ہیں کہ نہیں؟ دنیا کی اکثر اسمبلیوں کے ممبران سیاسی منشور لے کر رائے دہندگان کے پاس جاتے ہیں اور ان کا انتخاب سیاسی اہلیت کی بناء پر ہی کیا جاتا ہے۔خود پاکستان میں بھی ممبران کی بھاری اکثریت سیاسی منشور کی بناء اور علماء کے فتوے کے علی الرغم منتخب کی گئی ہے۔پس ایسی اسمبلی کو یہ حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ کسی فرقہ کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ فلاں عقیدہ کی رو سے فلاں شخص مسلمان رہ سکتا ہے کہ نہیں؟ اگر کسی اسمبلی کی اکثریت کو محض اس بناء پر کسی فرقہ یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ ملک کی اکثریت کی نمائندہ ہے تو یہ موقف بھی نہ عقلاً قابل قبول ہے نه فطرتا نہ مذہباً۔اس قسم کے امور خود جمہوری اصولوں کے مطابق ہی دنیا بھر میں جمہوریت کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دئیے جاتے ہیں۔اسی طرح تاریخ مذہب کی رو سے کسی عہد کی اکثریت کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی فیصلہ دے۔اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ دنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ ظالمانہ تصور ہے جسے دنیا کے ہر مذہب کا پیروکار بلا توقف ٹھکرا دے گا۔“ چونکہ اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد میں رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کو اپنی قرارداد کی بنیاد بنا کر