سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 324 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 324

324 "Actually he always thought (در اصل ان کا ہمیشہ یہ خیال ہوتا تھا) کہ وہ کچھ بھی کر لیں اس پر قابو پالیں گے۔“ جب ہم نے عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب سے جو ۱۹۷۴ء میں وزیر قانون تھے یہ سوال کیا کہ بھٹو صاحب کا اشارہ کن بیرونی عناصر کی طرف تھا جنہوں نے یہ سازش تیار کی تھی۔تو پہلے انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ نے یہ سوال اور کس سے پوچھا ہے۔اس کا جواب ملنے کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کے خلاف پہلے یہاں پر ایکشن ہوا تھا یا سعودی عرب میں۔اس کا جواب ملنے پر وہ محض سر کو اثبات میں جنبش دے کر خاموش ہو گئے۔یہ عجیب بات نظر آتی ہے کہ اس پس منظر میں کا بینہ کے اراکین نے یا قومی اسمبلی کے کسی حکومتی یا اپوزیشن رکن نے یہ سوال نہیں اُٹھایا آخر وہ کون سا بیرونی ہاتھ ہے جو کہ ملک میں یہ فسادات بر پا کر رہا ہے۔ہم یہاں پر پڑھنے والوں کو یہ یاد دلاتے جائیں کہ ہم حصہ دوئم میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں کہ ۱۹۵۳ ء کے فسادات کے دوران ذمہ دار افسران نے بھی غیر ملکی ہاتھ کی طرف اشارہ کیا تھا اور فسادات کے بعد پارلیمنٹ میں بجٹ تقریر کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے بھی ۵۳ء میں احمدیوں کے خلاف فسادات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن جیسا کہ اوپر دی گئی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ تو کر دیتے ہیں جو کہ کچھ عرصہ کے بعد پاکستان میں احمدیوں کے خلاف مہم چلا دیتا ہے۔لیکن کوئی اس بیرونی ہاتھ کی تعین نہیں کرتا۔جن سیاستدانوں سے ہم نے سوال کئے انہوں نے اپنے جواب کو جہاں تک سازش کا سلسلہ واضح نظر آتا تھا، وہاں تک محدود رکھا۔لیکن دنیا کی تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اصل محرک قو تیں اور ہوتی ہیں اور سامنے کوئی اور دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر آئندہ آنے والی نسلوں کے محققین بہت کچھ لکھیں گے لیکن ہم بات کو وہیں تک ختم کرتے ہیں جہاں تک ہماری تحقیق ہمیں لے کر گئی ہے۔ہر پڑھنے والا اپنے ذہن کے مطابق نتیجہ نکال سکتا ہے۔