سلسلہ احمدیہ — Page 272
272 تاثر دیا گیا تھا اگر یہ باور کیا جائے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ ہندوستان کے مسلمان کسی طرح اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ سعودی مملکت پر کسی قسم کا دباؤ ڈال سکیں اور تاریخی طور پر اس قسم کا کوئی خاطر خواہ بیان یا ثبوت بھی نہیں ملتا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا دباؤ پیدا کیا گیا تھا۔ان کے کئی قائدین سلطان عبد العزیز کے خلاف بیان دیتے ہوئے ہندوستان سے گئے تھے اور حجاز مقدس پہنچ کر ان سے اتنا مرعوب ہوئے تھے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے واپس آئے تھے۔اور یہ بھی باور نہیں کیا جاسکتا کہ انگلستان کے مسلمانوں کی طرف سے ایسی صورت حال پیدا کی گئی تھی کیونکہ اس وقت انگلستان میں مسلمان برائے نام تعداد میں موجود تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد نے خود اس تقریب میں شمولیت کی تھی۔اس وقت سعودی مملکت خفیہ طور پر سلطنت برطانیہ سے جس قسم کے مذاکرات کر رہی تھی اس کے لئے یہ بہت ضروری تھا کہ کسی طرح سلطنت برطانیہ کی ناراضگی نہ مول لی جائے۔بہر حال امیر فیصل نے جو کہ بعد میں سعودی مملکت کے فرمانروا بھی بنے اس دورہ میں مسجد فضل کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن انہوں نے مغربی طاقتوں کی طرف بالخصوص سلطنت برطانیہ کے بارے میں جس طرح دوستانہ رویہ ظاہر کیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا اور اس کے متعلق مسلمان قائدین نے آواز میں بلند کرنی شروع کیں۔چنانچہ مولانا محمد علی جوہر نے امیر فیصل کے اس دورہ کے بارے میں یہ الفاظ لکھے۔الفاظ کافی سخت ہیں ہم اس کی تصدیق یا تردید کی بحث میں پڑے بغیر اس لئے درج کر رہے ہیں کہ تا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس وقت اس دورہ کا عام مسلمان قائدین میں کیار مل تھا۔مولانا محمد علی جو ہر موتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے انجام اور امیر فیصل کے دورہ کے بارے میں لکھتے ہیں : جو حشر جمہوریت کی تعریف اور مقدس مقامات کے احترام کا ہوا وہ ایک عالم جانتا ہے۔جو حشر موتمر عالم اسلام کا کیا جا رہا ہے اس کے متعلق جلد کچھ عرض کروں گا۔شرف عدنان بے اول موتمر کے صدر کا تار جو علامہ سید سلمان ندوی نائب صدر موتمر کے نام موصول ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔پڑھئے اور سلطان ابن سعود کے ایفائے عہد کا لطف اُٹھائیے۔یہ ہے وہ تمسک بالکتب والسنتہ جو ہدم مقابر ماثر اور مزار رسول اکرم (روحی فداه)