سلسلہ احمدیہ — Page 271
271 وضاحت کے لئے تار دی ہے اگر مثبت جواب آیا تو ہم اس تقریب میں بڑی خوشی سے شامل ہوں گے۔لیکن آخر تک حجاز سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اور حضور سے لی گئی اجازت کے مطابق شیخ عبد القادر صاحب نے مسجد کا افتتاح کیا۔اس وقت جو بھی حالات سامنے نظر آ رہے تھے اس کے مطابق کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن اس رکاوٹ کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کام کر رہی تھی۔چونکہ ایک عرصہ کے بعد جب امیر فیصل نے سعودی مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے جماعت کے مخالف ایک عالمی نفرت انگیز مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ وہ اُس مسجد کا افتتاح کر سکیں جس کو بعد میں جماعت کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت ملنی تھی۔تاریخ مسجد فضل لندن مصنفہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب، ناشر مینیجر بکڈ پوتالیف واشاعت قادیان ص ۴۵ تا ۶۰) انگلستان کے اس دورہ کے دوران امیر فیصل نے مسجد کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن وہ دوسرے معاملات میں مصروف رہے۔اس وقت تو یہ حقائق پوری طرح سامنے نہیں آئے تھے لیکن اب یہ معروف حقائق بن چکے ہیں کہ ان دنوں امیر فیصل سلطنت برطانیہ کے عہد یداروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔اور ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ برطانیہ حجاز پر ان کے والد کی بادشاہت کو قبول کر لے۔اور کچھ عرصہ کے بعد ان مذاکرات کا نتیجہ بھی سامنے آ گیا اور مئی ۱۹۲۷ء میں باقاعدہ طور پر Treaty of Jeddah پر دستخط ہوئے جس کے نتیجہ میں حجاز اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تسلیم کر لی گئی۔لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ پہلی مرتبہ جن افسران نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ امیر فیصل جماعت احمدیہ کی تقریب میں شامل نہیں ہوں گے وہ سعودی حکومت کے کوئی عہد یدار نہیں تھے بلکہ برطانوی سفارتکار تھے اور اس وقت امیر فیصل برطانوی عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔اور ان مذاکرات کی کامیابی برطانوی حکومت کی خوشنودی پر منحصر تھی۔The late King Faisal, his life, personality and methods of) Government by Mariane Alireza P8 یہ مضمون انٹرنیٹ پر موجود ہے) یہ سوال بار بار اٹھایا گیا ہے کہ آخر میں امیر فیصل نے مسجد فضل کا افتتاح کیوں نہیں کیا جب کہ وہ اپنے ملک سے اس ارادہ سے چلے تھے کہ اس افتتاح کی تقریب میں حصہ لیں۔جیسا کہ ایک مرحلہ پر