سلسلہ احمدیہ — Page 270
270 مسجد کے افتتاح یا جماعت کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کرنے سے متردد ہیں۔۲۹؎ ستمبر کی رات کو جماعت کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جانا تھا اور یہ پروگرام ان کی رضا مندی سے رکھا گیا تھا اور ۱/۳ اکتوبر کو مسجد کا افتتاح کیا جانا تھا۔لیکن امام مسجد لندن کو مسٹر جارڈن جو کہ جدہ میں برطانوی کونسل تھے کا پیغام ملا کہ وہ انہیں ملیں۔ملاقات پر ان کو بتایا گیا کہ ۲۹؍ ستمبر کی تاریخ اس استقبالیہ کے لئے مناسب نہیں کیونکہ اسی تاریخ کو حکومت برطانیہ کی طرف سے بھی دعوت ہے لیکن جب حضرت مولانا عبد الرحیم در ڈ صاحب نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ حکومت کی طرف سے دعوت دو پہر کو ہے اور جماعت کی طرف سے استقبالیہ رات کو ہے لیکن برطانوی افسران اس بات پر مصر رہے کہ یہ دعوت ۲۹ ستمبر کو نہیں ہونی چاہئے بلکہ مسجد کے افتتاح کے بعد ۶ / اکتوبر کو ہونی چاہئے۔یہ بات بہت معنی خیز تھی کہ دعوت قبول تو سعودی فرمانروانے کی تھی لیکن اس پروگرام میں ردو بدل کا اختیار اب برطانوی حکومت کے پاس آچکا تھا۔اور سعودی شہزادے اور ان کا وفد محض خاموش تھا۔اور دوسری طرف اخبارات میں خبریں چھپ رہی تھیں کہ امیر فیصل اس نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔لیکن اب اس بات کے آثار واضح ہو رہے تھے کہ امیر فیصل اب مسجد کا افتتاح نہیں کریں گے۔۲۸ ستمبر کو حضرت مولانا عبد الرحیم در دصاحب کو ایک با اثر شخصیت کی طرف سے خط ملا کہ امیر فیصل اس افتتاح میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور وجہ یہ بتائی گئی کہ سلطان عبد العزیز کی طرف سے کوئی تار ملا ہے جس کی وجہ سے یہ رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی مخالفت ہے لیکن اس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ خبر پہنچانے والے صاحب خود بھی اصل وجہ سے بے خبر ہیں۔لیکن وہ صاحب یہ خیال ظاہر کر رہے تھے کہ مسجد کے افتتاح کی تقریب ملتوی کر دی جائے۔لیکن حضرت مولانا عبد الرحیم در دصاحب کا خیال یہی تھا کہ مسجد کا افتتاح بہر حال مقرر کردہ تاریخ پر کیا جائے۔حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بھی صورت حال لکھ کر راہنمائی کے لئے درخواست کی گئی تو حضور نے بھی اسی خیال کے مطابق حکم دیا کہ افتتاح کی تیاری رکھی جائے۔پھر حجاز کے وزیر خارجہ خود حضرت درد صاحب سے ملے اور کہا کہ ہمیں اس صورت حال کا بہت افسوس ہے۔اصل میں سلطان عبد العزیز کی طرف سے یہ تار ملا تھا کہ تم اپنی ذمہ داری پر اس مسجد کا افتتاح کر سکتے ہو اور وہاں کے مسلمانوں سے بھی مشورہ کر لینا اور ہم نے سلطان کے حکم کی