سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 269 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 269

269 سے جن لوگوں کو کامل اتفاق تھا ، جن کی صدارت اور جن کی تائید سے یہ خبریں پاس ہوئی تھیں اور ابن سعود کو بھیجی گئی تھیں، انہوں نے نہایت شد و مد سے اختلاف کیا۔ملوکیت کی حمایت کی اور وعدہ خلافیوں پر پردہ ڈالنا چاہا۔“ سیرت محمد علی حصہ اول و دوم، مصنفہ رئیس احمد جعفری، ناشر کتاب منزل لا ہورص ۴۴۸ تا ۴۵۰) مولا نا محمد علی جو ہر صاحب نے جن خیالات کا بھی اظہار کیا ہو یہ ظاہر ہے کہ موتمر عالم اسلامی کے پہلے اجلاس میں کم از کم ہندوستان کا جو وفد شریک ہوا اس میں شبیر عثمانی صاحب ،ظفر علی خان صاحب اور سلمان ندوی صاحب جیسے افراد موجود تھے جو کہ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف تھے اور ان میں سے کئی ایسے تھے جو کہ سلطان عبد العزیز کی مخالفت کرتے گئے تھے اور پھر وہاں جا کر انہوں نے اپنا موقف بدل لیا تھا۔یہ واقعات ۱۹۲۶ء کے ہیں اور یہ سال جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سال لندن میں مسجد فضل لندن کا افتتاح ہوا تھا۔اور یہ مغربی دنیا میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد تھی۔جب اس کے افتتاح کا معاملہ پیش ہوا تو یہ فیصلہ ہوا کہ عراق کے بادشاہ کے چھوٹے بھائی امیر زید جو اس وقت آکسفورڈ میں تعلیم پا رہے تھے یا عراق کے بادشاہ شاہ فیصل جو اس وقت انگلستان کے دورہ پر تھے، سے اس مسجد کا افتتاح کرایا جائے۔اس کے لئے شاہ فیصل کو خط بھی لکھا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا تو پھر سلطان عبد العزیز ابن سعود کو تا ردی گئی کہ وہ اپنے کسی صاحبزادے کو اس بات کے لئے مقرر کریں کہ وہ مسجد فضل لندن کا افتتاح کریں۔اور ان کے انگریز دوست نے بھی انہیں لندن سے تار دی کہ آپ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر ہر دلعزیزی حاصل کر سکتے ہیں۔چنانچہ امام مسجد لندن حضرت مولا نا عبد الرحیم در دصاحب کی با قاعدہ درخواست پر انہوں نے نے بذریعہ تار جواب دیا کہ ہم اس درخواست کو قبول کرتے ہیں اور ہمارا بیٹا فیصل ستمبر میں لندن کے لئے جدہ سے روانہ ہو گا۔۲۳ ستمبر ۱۹۲۶ء کو شاہ حجاز کے صاحبزادے امیر فیصل انگلستان پہنچے اور امام مسجد لندن کی سرکردگی میں ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا اور تمام اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو گئی کہ وہ لندن کی نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔امیر فیصل کا قیام بطور سرکاری مہمان ہائیڈ پارک ہوٹل میں تھا۔لیکن جلد ہی ایسے آثار ظا ہر ہونا شروع ہو گئے کہ امیر فیصل کسی وجہ سے