سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 268 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 268

268 خطے میں تمام عالم اسلام کے مشورے سے ہی ایک نظام حکومت قائم کیا جائے گا۔لیکن وہاں پہنچ کر جو آثار دیکھے تو یہ سب امید میں دم توڑنے لگیں۔سلطان عبد العزیز ابن سعود بھی حجاز پر اپنی موروثی ملوکیت قائم کر رہے تھے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر کیا ہوا اس کے متعلق رئیس احمد جعفری اپنی کتاب ”سیرت محمد علی میں تحریر کرتے ہیں : ” جب محمد علی آمادہ ہوئے تو یہ تجویز ہوئی کہ ایک وفد بھی خلافت کمیٹی کی طرف سے حجاز بھیجا جائے وہ موتمر اسلام میں شرکت کرے اور خلافت کمیٹی کا نظریہ پیش کرے اور سلطان ابن سعود کو ان کے مواعید یاد دلائے۔مولانا سید سلمان ندوی صدر وفد مقرر ہوئے۔مسٹر شعیب قریشی سیکریٹری اور علی برادران ممبر، اس طرح یہ وفد موتمر میں شرکت کے لئے حجاز مقدس روانہ ہو گیا۔محمد علی کی صحت یہیں سے خراب تھی ، وہاں پہنچے تو آب و ہوا کی نا موافقت کی وجہ سے علیل ہو گئے ، اور بائیں حصہ جسم پر خفیف سا فالج کا حملہ بھی ہوالیکن وہ ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لائے اور اپنا کام برابر پورے استقلال سے جاری رکھا۔موتمر میں عالم اسلام کے اکثر نمائندے شریک ہوئے تھے،خود سلطان ابن سعود نے موتمر کا افتتاح کیا تھا۔اکثر نمائندے جلالتہ الملک کے جلال و جبروت سے متاثر و مرعوب تھے لیکن محمد علی کا ایک حق گو وجود ایسا تھا خدم و حشم ، جاہ و جلال، عظمت و جبروت کسی چیز سے بھی متاثر نہیں ہوا۔اس نے وہیں موتمر میں سلطان ابن سعود سے پورے آزادانہ لہجہ میں تخاطب کیا کہ یہ ملوکیت کیسی ؟ اسلام میں تو شخصیت کی بیخ کنی کی گئی۔شوری اور جمہوریت کو تفوق حاصل ہے۔تم کتاب وسنت کے تمسک کے مدعی ہو ، پھر یہ قیصر و کسری کی پیروی کیوں؟ محمد علی کے اس آوازہ حق نے تمام لوگوں کو چونکا دیا اور یہ احساس پیدا کر دیا کہ ابھی عالم اسلام حق گو اور حق پرست شخصیتوں سے خالی نہیں ہے۔گو آج صحابہ کرام کا وجود گرامی ہمارے درمیان نہیں، پھر بھی ایسی ہستیاں ابھی موجود ہیں جو حق کے لئے سارے عالم سلام سے دشمنی مول لے سکتی ہیں اور کسی شاہ وشہر یار کو خاطر میں نہیں لاتیں۔۔۔۔۔سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ خلافت کمیٹی کی پالیسی۔ہدایات اور نصب العین