سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 265 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 265

265 اس کے باوجود یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو حکومت نے نہیں کہا تھا کہ وہ اس قرار داد پر دستخط کریں۔اس کے باوجود جبکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ یہ کہے کہ دوسرا شخص مسلمان ہے یا نہیں پھر بھی انہوں نے اس قرار داد پر دستخط کر دیئے۔اور اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کی اور اس کی قرار دادوں کی کوئی اہمیت بھی نہیں تھی پھر بھی انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملہ پر بیرونِ ملک جا کر اس بحث میں حصہ لیا اور ایک ایسی قرار داد پر دستخط بھی کر دیئے جس کے مطابق پاکستان کی آبادی کے ایک حصہ کا اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ بھی کیا جانا تھا۔البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ سعودی حکومت کے پاس پیسہ تھا اور وہ اس کے بل بوتے پر ایسی کا نفرنسیں کراتے تھے یا کتابیں لکھوا کر اور انہیں خرید کر یا پھر ویسے ہی علماء کی مدد بھی کرتے تھے۔پھر ان سے دریافت کیا گیا کہ اس کمیٹی میں احمدیوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ جہاد کے قائل نہیں۔اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ بھائی جہاد کسے کہتے ہیں۔آج تک کسی نے جہاد کی Definition کی ہے۔اگر جہاد کا مطلب یہی ہے کہ تلوار اٹھانا تو وہ کن حالات میں اُٹھائی جائے۔جہاد کے تو اور بھی بڑے مطلب ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہاں کون سب سے زیادہ اس قرارداد کو دلچسپی لے رہا تھا تو ان کا جواب تھا کہ سعودی سب سے زیادہ اس قرار داد کو منظور کرانے میں دلچسپی لے رہے تھے۔پھر رابطہ کے اس اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس وقت احمدی پاکستان کی سول سروس میں اور ملٹری میں بہت نمایاں پوزیشن حاصل کرتے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت احمدی ایسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔جب ان سے کہا گیا کہ اس وقت تو احمدی ایسی کسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔تو ان کا بے ساختہ جواب یہ تھا کہ ایم ایم احمد تو تھے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایم ایم احمد اس قرار داد کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے بلکہ ورلڈ بینک میں جاچکے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنی صلاحیت کی بنا پر کوئی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔اب سابق وفاقی وزیر بشر حسن صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی مرضی کے خلاف ایسی قرارداد پر دستخط کر آئے اور تجمل ہاشمی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں نہیں کہا تھا کہ اس قرارداد پر دستخط کرو۔اب پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا