سلسلہ احمدیہ — Page 266
266 جواب حقیقت کے قریب تر ہو سکتا ہے۔جماعت کے مخالفین کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی کی اس قرارداد کا حوالہ بار بار دیا گیا ہے۔۱۹۷۴ء میں جب جماعت کے خلاف قرار دادیں پیش کی گئیں تو بھی اس فیصلہ کو امت مسلمہ کے مشترکہ فیصلہ کے طور پر پیش کیا گیا۔اور اس کے بعد بھی اب تک ہر سطح پر اس قرارداد کا حوالہ دیا جاتا ہے۔اور اس قرارداد پر دستخط کرنے والا پاکستانی مندوب خود اقرار کرتا ہے کہ اس قرارداد کے مندرجات سے تو مجھے اتفاق ہی نہیں تھا۔میں نے تو ویسے ہی اس پر دستخط کر دیے تھے۔اس وقت سعودی حکومت کے پاس مدد دینے کے لئے پیسے تھے اور اس وقت وہ مختلف ذرائع سے مدد کیا کرتے تھے۔اب پڑھنے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قرارداد کی اصل حقیقت کیا ہے۔اس باب کے آخر میں یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ اس تنظیم رابطہ عالم اسلامی کا آغاز کیسے ہوا اور اس کا بالواسطہ طور پر جماعت احمدیہ کی تاریخ سے کیا تعلق تھا ؟ موتمر عالم اسلامی کا پہلا اجلاس ۱۹۲۶ء میں ہوا۔ایک سال قبل ہی سلطان عبد العزیز ابن سعود نے جو کہ پہلے صرف نجد پر حکمران تھے ، حجاز پر قبضہ کیا تھا۔اس سے قبل حجاز پر شریف مکہ کیق حکمرانی تھی۔سلطان عبدالعزیز ابن سعود وہابی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔جب حجاز پر ان کا قبضہ ہوا تو پوری دنیا کی طرح ہندوستان میں یہ خبریں پہنچیں کہ حجاز میں ان کے حملہ کے نتیجہ میں بہت خون ریزی کی گئی ہے اور صحابہ کی بہت سے قبروں کے نشانات اور بعض مزاروں پر سے گنبدوں کو منہدم کیا گیا ہے کیونکہ وہابی مسلک کے تحت ان چیزوں کو بدعت سمجھا جاتا ہے۔ان خبروں نے ہندوستان میں بھی بے چینی کی لہر پیدا کر دی۔لیکن عبدالعزیز ابن سعود اوران کے حامیوں کی طرف سے ان خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیا گیا۔مولوی شبیر عثمانی صاحب جو جماعتِ احمدیہ کے اشد ترین مخالفین میں سے تھے ان کی سوانح حیات حیات عثمانی میں لکھا ہے: لیکن ابن سعود حنبلی مذہب کے تھے۔عبد الوہاب نجدی کے ہم مشرب تھے کہ وہ بھی حنبلی تھا، انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خدمت کا چارج لیتے ہی تاثر حجاز کو منہدم کرا دیا۔صحابہ کے تمام پختہ مزارات کو پیوست زمین کر دیا، قبروں کا نام ونشان نہ چھوڑا۔البتہ کچی قبریں نشانی کے طور پر رہنے دیں۔ترکوں نے تقریباً تمام متبرک اور محترم شخصیتوں کی قبروں پر قبے بنوا دئے تھے ، اور ان پر ان کے نام بھی کندہ کرا دئے تھے لیکن سب کو