سلسلہ احمدیہ — Page 257
257 اب یہ صورت حال ظاہر و باہر تھی کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ایسی سازش تیار کی جارہی ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا جال بہت سے ممالک میں پھیلا ہوگا۔اور اب پاکستانی حکومت بھی اس بات کا تہیہ کئے بیٹھی ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اس طرح ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے۔اور اس قرارداد کے متن سے یہ بات بالکل عیاں تھی کہ مقصد صرف یہ نہیں کہ دستوری طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے بلکہ جو بھی یہ سازش کر رہا تھا وہ احمدیوں کی تبلیغ سے خائف تھا اور اس کی یہ کوشش تھی کہ جماعت کی تبلیغ کو ہر قیمت پر روکا جائے۔اور یہ ارادے واضح طور پر نظر آرہے تھے کہ احمدیوں کو ان کے بنیادی کے حقوق سے محروم کرکےاپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔یہاں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے اس قرارداد پر پاکستان کے ایک فیڈرل سیکریٹری نے دستخط کئے تھے جب کہ ابھی ملک میں احمدیوں کے خلاف فسادات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فیڈرل سیکر یٹری حکومت کی رضامندی کے بغیر ایسی قرار داد پر دستخط کر دے تو ان کا جواب تھا کہ ہاں یہ گورنمنٹ سے پوچھے بغیر نہیں ہوسکتا۔جب ان سے پھر یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ یہ پلان فسادات کے شروع ہونے سے پہلے ہی بن چکا تھا کہ احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔پلان بن نہیں چکا تھا۔بس جس حد تک ہوا، اُس حد تک ہوا۔اب اس کی جو "That is a different matter - Execution لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری ایسی قرارداد پر ملک سے باہر جا کر دستخط کر آتا ہے کہ جس پر عمل کے نتیجہ میں ملک کی آبادی کے ایک حصہ کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا عمل شروع ہو جانا تھا، لازمی بات ہے کہ ملک کی کا بینہ کوکم از کم اس بات کا نوٹس تو لینا چاہئے تھا۔جب ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا کا بینہ میں اس قرارداد پر کوئی بات ہوئی تھی تو ان کا جواب تھا کہ نہیں کا بینہ میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں سعودی حکومت کی سر پرستی میں کام کرتی ہے