سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 258 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 258

258 اور اس کو مالی وسائل بھی سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں۔اور جب کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے ایک وفاقی سیکریٹری نے صرف اس بات کی مخالفت کی کہ احمدیوں کی ملازمتوں پر پابندی لگانا مناسب نہ ہوگا تو سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے برملا کہا کہ سعودی عرب میں تو علماء کے فتوے کی بنا پر شاہی فرمان جاری ہو چکا ہے کہ قادیانیوں کو سعودی عرب میں ملازمتیں نہ دی جائیں۔اور ساری الزام تراشیوں کا مرکز یہ تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا اور استعمال کیا اور دوسرا بڑا الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ قادیانی جہاد ( یعنی جہاد بال ) کے قائل نہیں ہیں۔اس پس منظر میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن فرمانرواؤں کی طرف سے یہ الزامات لگائے جارہے تھے، تاریخ کیا بتاتی ہے کہ ان کے تاج برطانیہ کے ساتھ کیسے تعلقات رہے اور انہوں نے گزشتہ ایک صدی میں کس کس سے جہاد اور قتال کیا۔اس کے لیے ہمیں نوے برس پہلے کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لینا پڑے گا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران حجاز سمیت موجودہ سعودی عرب کا علاقہ بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔اور سلطنت عثمانیہ جرمنی کا ساتھ دے رہی تھی۔اس سلطنت کو کمزور کرنے کے لیے برطانیہ اور اس کے ساتھی کوششیں کر رہے تھے کہ کسی طرح عرب ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔اس وقت نجد کے علاقے پر سعودی خاندان اور حجاز پر شریف مکہ کی حکومت تھی۔برطانیہ کے ایجنٹوں نے شریف مکہ سے تو روابط بڑھائے اور اپنے ایجنٹ لارنس کو استعمال کر کے شریف مکہ سے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرائی۔لیکن اس کے ساتھ ان کے ایجنٹ سعودی خاندان سے بھی مستقل رابطے رکھ رہے تھے۔سب سے پہلے یہ رابطہ کیپٹن ولیم شیکسپیئر کے ذریعہ ہوا جو کویت میں برطانیہ کے پولیٹکل ایجنٹ تھے انہوں نے ۱۹۱۰ء میں نجد کے فرمانروا عبد العزیز بن عبد الرحمن ابن سعود سے ملاقات کی اور دونوں میں دوستی اور ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔ولیم شیکسپیئر نے ابن سعود کو برطانیہ کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔اور برطانیہ کو ان کی مدد کی ضرورت اس لیے تھی تا کہ انہیں دوسری مسلمان حکومتوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔۱۹۱۵ ء میں سعودی خاندان اور سلطنت برطانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس میں سعودی ریاست کو سلطنت برطانیہ کی ایک Protectorate کی حیثیت حاصل ہوگئی۔برطانیہ کی نمائندگی پرسی کوکس (Percy Cox) کر رہے تھے۔اس معاہدے کی اول