سلسلہ احمدیہ — Page 256
256 برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا۔اور یہ لوگ صیہونیت اور برطانوی استعمار کو مضبوط کر رہے ہیں۔اور قادیانی ان طریقوں سے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ اپنی عبادتگا ہیں تعمیر کر رہے ہیں جہاں سے یہ اپنے عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں۔اور اپنی خلاف اسلام سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے سکول اور یتیم خانے تعمیر کر رہے ہیں۔اور قرآن کریم کے تحریف شدہ تراجم دنیا کی زبانوں میں شائع کر رہے ہیں۔اور اس کام کے لیے انہیں اسلام کے دشمن مدد مہیا کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کے متعلق یہ فلمی منظر کشی کرنے کے بعد کمیٹی نے یہ تجاویز پیش کیں۔۱) تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد ،مدارس ، یتیم خانوں اور ودسرے تمام مقامات میں جہاں وہ اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں ۲) ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیے اس گروہ کے کفر کا اعلان کیا جائے۔۳) قادیانیوں سے مکمل عدم تعاون اور مکمل اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی بائیکاٹ کیا جائے۔ان سے شادی سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔۴) کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور ان کی املاک کو مسلمان تنظیموں کے حوالے کیا جائے۔اور قادیانیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔۵) قادیانیوں کے شائع کیے گئے تحریف شدہ تراجم قرآن مجید کی نقول شائع کی جائیں۔اور ان تراجم کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے۔جب یہ تجاویز کمیٹی کے سامنے آئیں تو مختلف تنظیموں کے مندوبین نے ان سے اتفاق کیا اور اس قرارداد پر دستخط کر دیے۔پاکستان کے سیکریٹری اوقاف ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی اس قرار داد پر دستخط کئے لیکن اتنا اختلاف کیا کہ انہیں ان تجاویز کے مذہبی حصہ سے اتفاق ہے لیکن انہیں اس تجویز سے اتفاق نہیں کہ قادیانیوں کو ملازمتوں میں لینے پر پابندی لگائی جائے۔اس کی جگہ انہیں غیر مسلم قرار دینا کافی ہوگا۔اس پر کمیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے کہا کہ علماء کے فتوے کے پیش نظر سعودی حکومت نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ اس بات پر پابندی لگادی ہے کہ قادیانی سعودی عرب میں داخل ہوں یا انہیں یہاں پر ملازمت دی جائے۔اس طرح یہ قرار داد منظور کر لی گئی۔