سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 251 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 251

251 رشک مقام پر فائز اور دینی بصیرت میں ممتاز شخصیت ، سلطان عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمةً واسعہ کی تربیت اور جہاد اور اس کے تقاضوں کی تکمیل سے لے کر شاہ فیصل کے لقب سے ملقب ہونے اور اس کے بعد۔۔۔۔اس عظیم فرمانروا نے خداداد بصیرت دینی حمیت ، سیاسی دانش اسلامی اخوت اور ایثار اور قربانی کے جو نقوش عہد حاضر میں ثبت فرمائے ہیں اور ان سے ان کی شخصیت کا جو نکھار اپنوں و بیگانوں نے مشاہدہ کیا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ یورپ اور پورا مغرب اس عظیم المرتبت قائد کے تیوروں سے سہما ہوا ہے اور عالم اسلام ان کی شخصیت پر اظہار فخر و مباہات کر رہا ہے۔“ اور اس کے ساتھ ہی اس جریدہ نے یہ بھی لکھا کہ حکومت کو یہ انتظام کرنا چاہئے کہ قادیانیوں کا سایہ بھی اس کا نفرنس پر نہ پڑے۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ خود جماعت احمدیہ کے مخالفین اس موقع کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔یہ ہمیشہ سے اس گروہ کا طریق رہا ہے کہ جب خود کوئی حرکت کرنی ہو تو یہ شور مچا دیتے ہیں کہ قادیانی یہ سازش کر رہے ہیں۔(المنبر یکم تا ۸ فروری ۱۹۷۴ء) اسی جریدہ نے کانفرنس کے بعد اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ جب شاہ فیصل شاہی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے آئے تھے تو انہوں نے پہلے دو رکعت تحیتہ المسجد نماز ادا کی تھی اور اس کے بعد جب انہوں نے طویل اور رقت سے بھری ہوئی دعا کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے اور انہوں نے ان آنسوؤں کو پونچھا تھا۔اور لاکھوں لوگوں نے اس منظر کوئی وی پر دیکھا تھا اور اس سے ان پر بہت اثر ہوا تھا۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جب دوبارہ یہ مناظر ٹی وی پر دکھائے گئے تو رفت پیدا ہونے والا اور آنسو پونچھنے والا منظر کاٹ دیا گیا جس پر سب کو بہت صدمہ ہوا۔اور اس جریدہ نے بہت اصرار سے لکھا کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے تا کہ اسلامی ذوق ابھر نہ سکے۔( المنبر ۱ تا ۸ مارچ ۱۹۷۴ء) پھراسی جریدے نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر لکھا کہ پہلے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ شاہ فیصل کا نفرنس کے موقع پر شاہی مسجد لاہور میں جمعہ پڑھائیں لیکن پھر ایک طبقہ کی طرف سے یہ مسئلہ اُٹھایا گیا کہ چونکہ شاہ فیصل وہابی عقیدہ کے ہیں اس لئے ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی۔پھر اس مسئلہ پر مختلف لوگوں کی طرف سے تاریں دی گئیں۔جب یہ چیز شاہ فیصل کے علم میں آئی تو انہوں نے