سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 250 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 250

250 پاکستان اس کانفرنس کا سپانسر تو تھا ہی کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہی ہو رہی تھی لیکن اس کے ساتھ سعودی بادشاہ شاہ فیصل بھی اس کا نفرنس کے Co-sponsor تھے۔کا نفرنس شروع ہوئی تو تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔بھٹو صاحب نے ہدایت دی کہ جب بیرونی ممالک کے سربراہان اور مندوبین آئیں تو ان کے ساتھ کسی احمدی فوجی افسر کی ڈیوٹی نہ لگائی جائے۔لیکن راز زیادہ دیر تک راز نہ رہ سکا۔افریقہ سے آئے ہوئے ایک وزیر اعظم کو جب جماعت کے خلاف دستاویزات دی گئیں تو انہوں نے یہ پلندہ اپنے ایک احمدی دوست کو تھما دیا۔یہ دستاویزات کیا تھیں جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹے الزامات اور زہر افشانیوں کا ایک طومار تھا۔اس میں جماعت اور خلیفہ وقت کے خلاف جی بھر کے زہرا گلا گیا تھا۔(A Man of God, by lan Adamson, George Shepherd Publishers, Great Britian P۔96-100) مخالفین اس موقع کو جماعت احمدیہ کی مخالفت کی آگ بھڑ کانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ شور مچارہے تھے کہ حکومت کو چاہئے کہ ایسا انتظام کرے کہ قادیانی اس کا نفرنس پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔بلکہ اس بات پر شور بھی مچارہے تھے کہ یہ کیا ظلم ہوا کہ ایک قادیانی فرم کو اس کا نفرنس کی میزبانی کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یہ بات رب العالمین کے حضور معتوب ہونے کی نشانی ہے۔اس فرم سے مراد ان کی شیزان کی کمپنی تھی۔(المنبر یکم فروری ۱۹۷۴ ء ص ۶) بہر حال سر براہی کانفرنس شروع ہوئی اور اس کا اختتام ہوا۔پس پردہ اس میں کیا کیا کچھ ہوا تھا۔اس کا اندازہ بعد میں منظرِ عام پر آنے والے واقعات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔لیکن اس کا نفرنس کے دوران اور بعد میں بھی بہت سے جرائد جس قسم کا پراپیگنڈا کرتے دکھائی دیئے اس کا اندازہ ان چند مثالوں سے ہو جاتا ہے۔رسالہ المنبر نے شاہ فیصل کی مدح سرائی کرتے ہوئے لکھا۔سعودی عرب کے فرمانروا۔خادم الحرمین شاہ فیصل ہیں۔موقعہ تفصیل کا نہیں ، فیصل معظم کی صحرائی زندگی، اس دور میں اپنے عظیم المرتبت مجاہد فی سبیل اللہ تو حید الہی میں قابلِ