سلسلہ احمدیہ — Page 229
229 گا۔چنانچہ اڑھائی کروڑ کی اپیل پر ساڑھے نو کروڑ سے زیادہ کے وعدے وصول ہو چکے ہیں۔افریقہ اور یورپ میں تبلیغی مراکز کی حکمت عملی کے متعلق حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے فرمایا: ” جو باتیں میں نے بیان کی تھیں ان کی شق نمبر ا یہ ہے کہ دنیا کے ریجن یعنی علاقوں کو Continent کے مختلف حصوں کو تقسیم کر کے کئی ممالک کا ایک مرکز بنا دیا جائے۔وہ مرکزی مشن ہاؤس ایک ایسا مرکز ہو جہاں دو یا تین یا چار ممالک کو جن کی زبان مشتر کہ ہوا کٹھا کر دیا جائے۔بعض ممالک ایسے ہیں جو نئے بنے ہیں جہاں فرانسیسی حکومت قابض رہی ہے ایسے ملکوں کو اکٹھا کر کے ایک مرکز بنا دیا جائے جس میں فرانسیسی بولنے والے مبلغین کو لگایا جائے اور اسی طرح انگریزی بولنے والے ملک میں انگریزی جاننے والوں کو۔ویسے کم ممالک انگریزی بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت جو بات ذہن میں آئی ہے اس کے بعد مشورہ اور مزید غور کے بعد اس میں مزید تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں لیکن اگر نقشہ ذہن میں ہو تبھی انسان غور کر سکتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ مغربی افریقہ میں تین مراکز قائم کئے جائیں گے۔اور ہر مرکز میں مختلف ممالک ہوں گے۔اس طرح ہم مغربی افریقہ میں کام کو پھیلا سکیں گے۔اسی طرح مشرقی افریقہ میں حسب ضرورت مختلف علاقے بنا کر مراکز قائم کریں گے۔‘ (۹) یورپ کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ اگلے پندرہ سال میں اٹلی ، فرانس ، سپین ، ناروے اور سویڈن میں اپنے مضبوط مراکز یعنی مساجد اور مشن ہاؤس بنانے کی ضرورت ہے۔اسی طرح انگلستان کے متعلق تین سے پانچ نئے مبلغ اور تین جگہوں پر مسجد اور مشن ہاؤس بنانے کی ضرورت ہے۔امریکہ کے متعلق حضور نے فرمایا کہ وہاں سیاہ فام اور سفید فام دونوں آبادیوں میں تبلیغ کرنی پڑے گی اور اس مہم کے لئے نئے مبلغ بھجوانے پڑیں گے اور نئے مشن ہاؤس بنانے پڑیں گے اور پھر نسلی تعصب دور کر کے ان دونوں آبادیوں کا آپس میں ملاپ کرایا جائے گا۔کینیڈا میں وہاں جا کر آباد ہونے والوں کی ایک جماعت قائم ہے مگر وہاں با قاعدہ مشن ہاؤس مسجد اور مبلغ موجود نہیں ہے۔حضور نے فرمایا اسی طرح جنوبی امریکہ میں دو جگہوں پر جماعت کے مراکز موجود ہیں لیکن برازیل اور ارجنٹائن میں مراکز موجود نہیں ہیں۔جنوبی امریکہ میں بھی دو مضبوط مراکز کی ضرورت ہے۔