سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 228 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 228

228 ابھی اس اعلان پر ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس فنڈ میں تین کروڑ تمہیں لاکھ کے وعدہ جات موصول ہو چکے تھے۔اور ابھی بہت سی جماعتوں کے وعدے موصول نہیں ہوئے تھے۔(۸) حضور نے جماعت کو یہ ہدف دیا تھا کہ مارچ کے آخر میں منعقد ہونے والی مجلس مشاورت سے قبل احباب جماعت پانچ کروڑ کے وعدے پیش کریں۔جب ۱۹۷۴ء کی مجلس مشاورت کا افتتاحی اجلاس شروع ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس مجلس مشاورت کے افتتاحی اجلاس میں صد سالہ جوبلی کے منصوبہ کے اہم خدو خال بیان فرمائے۔حضور کا یہ خطاب اس عظیم اور طویل المیعاد منصوبہ کے لئے ایک لائحہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ایک بڑا کام اس منصوبہ کے لئے مالی وسائل کی فراہمی کا تھا۔حضور نے سب سے پہلے ابھی تک موصول ہونے والے وعدوں کا تجزیہ بیان فرمایا۔جلسہ سالانہ سے لے کر اس وقت تک کا جو زمانہ ہے وہ وعدوں کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔کچھ وصولی بھی ہوئی ہے لیکن زیادہ تر یہ وعدے لینے کا زمانہ تھا۔ابھی جمعہ کے خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ یہ وعدے نو کروڑ بیس لاکھ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔گویا جمعہ کی نماز کے وقت تک نو کروڑ بیس لاکھ وعدوں کا اندراج ہو چکا تھا۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بیرون پاکستان میں قریباً پچاس ممالک میں ہمارے احمدی بستے ہیں۔جہاں سے ہم توقع کرتے تھے کہ اس منصوبہ کے لئے وعدے آئیں گے۔مجھے ابھی ایک دوست جن کے سپرد میں نے یہ کام رضا کارانہ طور پر کیا ہوا ہے۔انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ بیرونِ پاکستان کی میں جماعتوں سے وعدے وصول ہونے باقی ہیں۔اس کے با وجود بیرونِ پاکستان کے وعدے چار کروڑ بارہ لاکھ سنتالیس ہزار چارسو ستاون ( ۴۱۲۴۷۴۵۷) روپے پر مشتمل ہیں اور اندرونِ پاکستان کے وعدے اس وقت تک پانچ کروڑ بیالیس لاکھ تین ہزار ایک سو باون ( ۵۴۲۰۳۱۵۲) روپے تک پہنچ چکے ہیں۔(۹) وعدوں کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ عطایا کی اپیل کے لئے جو مشورے کئے گئے تھے وہ اپنے طور پر تھے اور دعاؤں کے نتیجے میں جو میرے ذہن میں منصوبے آئے تھے وہ اپنے طور پر تھے۔لیکن ان کا آپس میں تضاد بن رہا تھا۔کیونکہ اڑھائی کروڑ کی اپیل کی گئی تھی اور ضرورت اس سے بہت زیادہ کی بن رہی تھی۔اس لئے یہ اللہ تعالیٰ نے سبق دیا ہے کہ جتنی تمہاری ضرورت ہوگی وہ ملتا جائے