سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 14 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 14

14 فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام جماعت احمدیہ پر اجتماعی طور پر اور لاکھوں احباب جماعت پر انفرادی طور پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے شمار احسانات تھے اور ہیں۔اور آپ کے بابرکت وجود میں موعود فرزند کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود کو رحمت کا ایک نشان قرار دیا تھا۔آپ کی یاد ایسی یاد نہیں تھی جو آپ کی وفات کے ساتھ دلوں سے محو ہو جاتی۔جس طرح آپ کے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور جس طرح آپ کے باون سالہ دورِ خلافت میں جماعت ترقیات کی منازل طے کرتی چلی گئی ، اس کا تقاضا تھا کہ اس کے شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی جائے۔چنانچہ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے مثال کارناموں اور عظیم الشان احسانوں کی یادگار کے طور پر ۲۵لاکھ روپے کا ایک فنڈ قائم کیا جائے اور اس رقم سے ایسے کام کئے جائیں جن سے حضرت مصلح موعودؓ کو خاص دلچسپی تھی۔۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر جو خلافت ثالثہ کا پہلا جلسہ سالانہ تھا، آپ نے حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی اجازت سے اس فنڈ کا اعلان ۱۹/ دسمبر ۱۹۶۵ء کو فرمایا اور احباب جماعت سے اس فنڈ میں حصہ لینے کی تحریک کی۔آغاز میں جماعت سے پچیس لاکھ روپے کے عطیات کی اپیل کی گئی۔(1) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۵ء پر خطاب کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ اس فنڈ سے جو فاؤنڈیشن قائم کی جائے گی اس کا نام فضل عمر فاؤنڈیشن ہو گا۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ جماعت دیگر مالی قربانیوں کے علاوہ اس چندے میں بھی حصہ لیں اور اس دعا کے ساتھ رقوم پیش کریں کہ اس فاؤنڈیشن کے اچھے نتائج نکلیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ثواب حضرت مصلح موعود کو بھی پہنچائے اور ہمیں بھی پہنچائے۔آپ نے یہ خوش خبری سنائی کہ کل اس فنڈ کے قیام کا اعلان ہوا ہے اور ایک دن میں احباب نے پندرہ لاکھ کے وعدے لکھوا دیئے ہیں اور یہ امید ظاہر فرمائی کہ وعدوں کی