سلسلہ احمدیہ — Page 13
13 مقصد نہیں بلکہ اس کی آڑ میں اقتدار پر قبضہ کرنا ان کا مطلوب و مقصود ہے۔نمائندہ امروز نے مرزا ناصر احمد سے پوچھا۔سیاسی حلقوں کا یہ تاثر کہاں تک درست ہے کہ جماعت احمد یہ چونکہ ہر حکومت کی غیر مشروط اطاعت کرتی ہے اس لئے ملکی سیاست میں اس کا کوئی رول نہیں ہے۔مرزا صاحب نے جواب دیا جماعت احمدیہ کو عملی سیاست سے بلا شبہ کم دلچسپی ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ وہ ہر حکومت کی غیر مشروط اطاعت کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت قانون کی حکمرانی کی اطاعت کرتی ہے کیونکہ وہ بجھتی ہے کہ جب تک کسی ملک میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اس میں نہ تو معاشرتی ضبط ونظم پیدا ہوسکتا ہے اور نہ انفرادی سطح پر اطمینانِ قلب نصیب ہوسکتا ہے،مرزا صاحب نے کہا کہ اگر قانون حزب مخالف کے وجود کی اجازت دیتا ہو تو اس کے قیام میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن اختلاف کا اظہار تعمیری انداز میں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مارشل لاء کے نفاذ پر جب حزب مخالف کی تمام توپوں نے چپ سادھ لی تھی تو ہمیں حکومت سے کچھ اختلاف تھے ہم نے مناسب طریقے سے ان کا اظہار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ جن حلقوں کا کہنا ہے کہ ملکی سیاست میں جماعت احمدیہ کا رول نہیں۔ظاہر ہے وہ حزب مخالف سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے میں ان سے یہی کہوں گا انہیں اول تو خوش ہونا چاہئے کہ ہم ان کے مقابلے میں نہیں ہیں اور یوں بھی انہیں ہماری فکر نہیں ہونی چاہئے۔۔۔انہوں نے ایک واقعہ سنایا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ جماعت حکومت کے ہر اقدام کی اندھا دھند حمایت نہیں کرتی روزنامه امروز ۳۰ جنوری ۱۹۶۷ء ص ۹) حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی اس تحریک کی روشنی میں جماعت میں ہر سال مستحقین میں وسیع پیمانے پر گندم تقسیم کی جاتی ہے اور زکوۃ کی رقم سے بھی مستحقین کی وسیع بنیادوں پر مد کی جاتی ہے۔جماعت کے کارکنان کو تو ویسے ہی تمام اہل خانہ کے لئے گندم کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں۔