سلسلہ احمدیہ — Page 12
12 ( خطبات ناصر جلد اول ص ۴۹) حضور کا یہ خطبہ جمعہ ۱۹۶۵ء کا ہے۔۱۹۶۵ء اور ۱۹۶۶ ء میں بھارت کے مختلف علاقوں میں قحط سالی کی کیفیت پیدا ہوئی اور خاص طور پر بہار کے علاقہ میں شدید قحط کے حالات پیدا ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ اس قحط میں دس پندرہ لاکھ افراد اپنے زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ۱۹۶۷ء میں پاکستان کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کو فوری ضرورت کے ماتحت امریکہ، چین اور کینیڈا سے غلہ منگوانا پڑا۔اس موقع پر حزب اختلاف کی طرف سے حکومت پر نکتہ چینیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے جو فرمایا اسے روز نامہ امروز نے ان الفاظ میں شائع کیا: ” انہوں نے کہا کہ نکتہ چینی بحران کو حل کرنے میں مدد کرنے کی بجائے الجھاتی ہے۔کسی بھی قومی بحران کی صورت میں تمام شہریوں کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو مطعون الله کرنے اور ملزم ٹھہرانے کے بجائے بحران کو دور کرنے کی مثبت تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ سرور کائنات ﷺ کی حیات طیبہ کو مسلمانوں کے لئے مشعل راہ بنانا تھا اس لئے ان کی زندگی میں وہ تمام واقعات ملتے ہیں جو مسلمانوں کو بعد میں پیش آ سکتے تھے۔ان میں قحط کا واقعہ بھی موجود ہے۔مکہ میں قحط پڑا تو رسول اکرم ﷺ نے ایثار پر زور دیا جس کے نتیجے میں کفار کو کھانا میسر آنے لگا۔نبی اکرم ﷺ کے فرمودات کی روشنی میں مسلمان آج بھی رات کو اطمینان کر کے سوئیں کہ ہمسایہ بھوکا تو نہیں سورہا تو مسئلے کی شدت کم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی موقعوں کے لئے فرمایا تھا کہ ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا تین کے لئے کافی ہونا چاہئے۔اور جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا چار کے لئے اور چار کا آٹھ کے لئے کافی ہونا چاہئے تو ان کا اشارہ متمول طبقے کی جانب تھا۔مرزا صاحب نے حزب مخالف کے رویے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا اگر مقصد لوگوں کا پیٹ بھرنا ہے تو پھر حکومت سے تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا مخالف عناصر تعاون کی بجائے نکتہ چینی کی راہ اختیار کر کے ثابت کر رہے ہیں کہ غذائی قلت کے مسئلے پر قابو پانا ان کا