سلسلہ احمدیہ — Page 197
197 اور اس عہدہ کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ اُٹھانا بھی ضروری ہو۔جب ہم نے پروفیسر غفور صاحب جو اس وقت جماعت اسلامی کے سیکریٹری تھے اور آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے، یہ سوال کیا کہ ان حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کی تجویز کس طرف سے آئی تھی جبکہ پہلے جو آئین بنے تھے ان میں اس کا ذکر نہیں تھا؟ تو ان کا جواب تھا کہ پاکستان کے سابقہ آئینوں کو تو میں نے نہیں پڑھا لیکن ۱۹۷۳ء کا آئین بنتے وقت عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خود مختاری کے مسئلے پر تو بحث ہوئی تھی لیکن اس حلف نامے کے موضوع پر تو کوئی بحث ہوئی ہی نہیں تھی۔اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ان حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کے لئے کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا تھا۔بلکہ ان کی شمولیت ایک خاص ماسٹر پلان کا حصہ تھی جس کے باقی اجزاء بعد میں ظاہر ہوتے گئے۔لیکن اس بات نے مجھے بہت مایوس کیا کہ ایک صاحب جو نہ صرف آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے بلکہ آئین کو مرتب کرنے والی کمیٹی کے ایک اہم رکن بھی تھے اور ایک پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی تھے انہوں نے آئین سازی کے عمل کے دوران پرانے آئین کو پڑھا بھی نہیں تھا۔آئین میں ایک دلچسپ تضاد یہ بھی تھا کہ آئین کی رو سے وزراء ہمبرانِ اسمبلی وسینٹ اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکرز کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہوں یعنی ایک غیر مسلم بھی یہ عہدے حاصل کر سکتا تھا اور غیر مسلم وزراء بنتے رہے ہیں اور اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ہیں۔لیکن ان کے حلف نامے میں یہ عبارت شامل تھی That I will strive to preserve the Islamic Ideology which is the basis for the creation of Pakistan یعنی اگر ایک غیر مسلم ان عہدوں پر فائز ہو جائے تو وہ یہ حلف اُٹھائے گا کہ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود نظریہ اسلامی کی حفاظت کے لئے کوشاں رہے گا۔ہم نے پروفیسر غفور صاحب سے یہ سوال کیا کہ ایک غیر مسلم یہ حلف کیسے اُٹھا سکتا ہے کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے گا۔تو پہلے انہوں نے آئین کی کاپی میں متعلقہ حصہ پڑھا اور پھر کہا کہ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ میں مسلمان ہوں۔یہ آئیڈیا لوجی کے نقطہ نظر سے ہے۔