سلسلہ احمدیہ — Page 198
198 جب آئین میں یہ لکھا ہے کہ ملک میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا تو غیر مسلم کوبھی یہ حلف اُٹھانا پڑے گا۔بہر حال یہ واضح تھا کہ اب احمدیوں کے خلاف ایک سازش تیار کی جارہی ہے۔اس مرحلہ کے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے ۱۹۸۵ء میں فرمایا: ”۔۔۔۱۹۷۴ء کے واقعات کی بنیاد دراصل پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین میں رکھ دی گئی تھی۔چنانچہ آئین میں بعض فقرات یا دفعات شامل کر دی گئی تھیں تا کہ اس کے نتیجہ میں ذہن اس طرف متوجہ رہیں اور جماعت احمدیہ کو باقی پاکستانی شہریوں سے ایک الگ اور نسبتا ادنی حیثیت دی جائے۔میں نے ۱۹۷۳ء کے آئین کے نفاذ کے وقت اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں عرض کیا اور آپ کو اس وقت توجہ دلائی۔بعد ازاں جس طرح بھی ہو سکا جماعت مختلف سطح پر اس مخالفانہ رویہ کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ان کوششوں کے دوران یہ احساس بڑی شدت سے پیدا ہوا کہ یہ صرف یہاں کی حکومت نہیں کروارہی بلکہ یہ ایک لمبے منصوبے کی کڑی ہے اور اس معاملہ نے آگے بڑھنا ہے۔بہر حال ۱۹۷۴ء میں ہمارے خدشات پوری طرح کھل کر سامنے آگئے۔“ ( خطبات طاہر جلد ۴ ص ۵۴) لیکن بہت سے تکلیف دہ واقعات سے گزر کر ملک کو ایک دستور مل رہا تھا۔جماعت احمدیہ نے اس موقع پر کوئی مسلہ نہیں پیدا کیا بلکہ مکی مفادات کی خاطر اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ بالآ خر ملک کو ایک دستور مل گیا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔گزشتہ ربع صدی میں پاکستان کو بہت سی پریشانیوں میں سے گزرنا پڑا۔قیام پاکستان کے ایک سال بعد بانی پاکستان قائد اعظم کی وفات ہو گئی۔ان کے ذہن میں پاکستان کے لئے جو دستور تھاوہ قوم کو نہ دے سکے۔پھر ملک کو بعض دوسری پریشانیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔پھر مارشل لاء لگا جس کے متعلق بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی ذمہ داری فوج پر ہے اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے لیکن اس کی اصل ذمہ داری تو ان لوگوں پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے کہ فوج کو مارشل لاءلگا نا پڑا۔بہر حال مارشل لاء کا زمانہ