سلسلہ احمدیہ — Page 196
196 حلف نامے مقرر کئے گئے تھے۔لیکن ان میں مذہبی عقائد کے متعلق کوئی ایسی عبارات شامل نہیں کی گئی ۱۹۵۶ء کے آئین میں صدر کے حلف نامے کے الفاظ یہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔do solemnly swear that I will faithfully discharge the duties of the office of President of Pakistan according to law, that I will bear true faith and allegiance to Pakistan, that I will preserve protect and defend the constitution, and that I will do right to all manner of people according to law without fear or favour, affection or ill-wil۔اسی طرح ایوب خان صاحب کے دور میں جو آئین بنایا گیا تھا اس کے حلف ناموں میں بھی مذہبی عقائد کا کوئی ذکر نہیں تھا۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان کے آئین میں اس قسم کا حلف نامہ شامل کیا گیا تھا۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اس وقت بھٹو صاحب کی کابینہ کے ایک اہم رکن تھے اور وہ اس وقت اس کمیٹی کے رکن بھی مقرر ہوئے تھے جس نے آئین بنانے کا کام کیا تھا۔ان سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ ڈالنے کی کیا وجہ تھی تو ان کا کہنا تھا کہ گو کہ اس کارروائی کے دوران انہوں نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ وہاں جس طرح بحث ہوتی تھی وہ وقت کو ضائع کرنا تھا کیونکہ آئین نے جس طرح بنا تھا وہ تو اسی طرح بنا لیکن اس کی واضح وجہ یہی تھی کہ بھٹو صاحب کی پہلی کوشش یہ تھی کہ آئین منظور ہو اور پھر یہ خواہش تھی کہ متفقہ آئین منظور ہو۔اس غرض کے لئے انہیں مذہبی عناصر کو جو Concessions دینے پڑے ان میں یہ بھی شامل تھا۔اور جب ہم نے عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب سے جو کہ آئین بنانے والی کمیٹی کے سربراہ تھے اس بابت سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو صدر کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ مسلمان ہو لیکن جب آئین کا سارا ڈھانچہ بنا اور یہ واضح ہوا کہ سارے اختیارات تو وزیر اعظم کے پاس ہوں گے تو مذہبی جماعتوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وزیر اعظم کے لئے بھی مسلمان ہونا ضروری قرار دیا جائے