سلسلہ احمدیہ — Page 116
116 بلکہ شدید محنت سے تمہیں اس عظیم الشان مقصد کو حاصل کرنا پڑے گا۔اسی شام کو جماعت احمد یہ سیرالیون کی طرف سے ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر جماعت سیرالیون کے پریذیڈنٹ مکرم چیف گمانگا صاحب نے جماعت سیرالیون کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔اس کے جواب میں حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کی آخری اور دائمی فتح اور غلبہ کے لئے آئے لیکن دنیا نے اس آسمانی نور کو بجھانے کے لئے کمرکس لی محمد رسول اللہ ﷺ کے یہ روحانی فرزند طفل حسین کی طرح اللہ تعالیٰ کی گود میں تھا۔دنیا کی ساری طاقت اور قوت اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش میں لگ گئی۔لیکن یہ آسمانی آواز خاموش نہ کی جا سکی۔وہ آواز دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔اس کے بعد حضور نے انسانیت کو درپیش اہم مسائل کا ذکر فرمایا۔یہ مسائل انسانی برابری کا مسئلہ، دولت کی منصفانہ اور دانشمندانہ تقسیم کا مسئلہ اور تعلق باللہ کا مسئلہ ہے۔پھر حضور نے بیان فرمایا کہ اسلام ان مسائل کے کیا کیا حل پیش کرتا ہے۔مکرم الحاج بونگے صاحب مینڈے زبان میں اور مکرم بنگو را صاحب ثمنی زبان میں حضور کی تقریر کا ترجمہ کر رہے تھے۔تقریر کے بعد حضور مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کے مزار پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی اس ملک کے ابتدائی مبلغین میں سے تھے اور انہوں نے یہیں پر وفات پائی تھی۔یہ قبر ایک پر فضا مقام پر ہے۔آپ نے انتہائی غربت اور بے کسی کی حالت میں یہاں پر تبلیغ کے کام کا آغاز فرمایا تھا۔حضور کے دورہ کے وقت اس علاقہ کے ایک پرانے احمدی پاروجر ز صاحب زندہ موجود تھے جنہوں نے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کی آمد کا وقت دیکھا ہوا تھا۔وہ بیان کرتے تھے کہ جس دن آپ بو میں تشریف لائے تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مقامی علماء نے بہت مخالفت کی اور اعلان کیا کہ ان کو رہائش کے لئے کوئی جگہ نہ دی جائے اور ان کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔کسی نے رات کو انہیں ٹھہرنے کے لئے جگہ نہ دی۔بالآخر انہوں نے اپنے ساتھی کو جو ان کی کتابیں اُٹھا کر ساتھ پھرا کرتا تھا کہا کہ چلو Bush میں چلتے ہیں۔چنانچہ وہ آبادی سے باہر جنگل میں ایک درخت کے نیچے پھہر گئے۔پارو جرز کہتے ہیں مجھے لوگوں کی اس حرکت پر بہت طیش آیا اور میں ان کے پاس چلا آیا۔مولانا نذیر احمد صاحب علی زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔آدھی رات کو جب آپ تہجد کے لئے اُٹھے تو ان کو دمہ کا شدید دورہ پڑ گیا اور یہ دورہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ یہ اُن کا آخری وقت ہے۔چنانچہ میں نے ان