سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 115 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 115

115 دے رہے تھے۔ایک امام صاحب نے احمدی مبلغ کے سامنے اظہار کیا کہ میرے سارے شکوک دور ہو گئے ہیں۔اس تقریب کی خبر ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں نمایاں طور پر نشر اور شائع کی گئی۔باوجود سارے دن کی مصروفیات کے حضور رات کو دیر تک احمدی احباب کے درمیان مجلس میں تشریف فرما ہو کر گفتگو فرماتے رہے۔حضور نے فرمایا کہ پاکستان کے ایک اخبار جسارت نے لکھا ہے کہ ہمارے دورہ مغربی افریقہ میں بھی کوئی راز ہے۔پھر فرمایا کہ راز یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اور حضور کے روحانی فرزند جلیل حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی شان کے جلوے دیکھے جائیں۔(۴۶) ۹رمئی ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث فری ٹاؤن سے ۱۶۷ میل کے فاصلہ پر بو کے علاقہ میں تشریف لے گئے۔تقریباً سات گھنٹے کا سفر کر کے حضور بو پہنچے۔بو اور قریب کے علاقوں سے تین چار ہزار کے قریب احباب اور خواتین اس موقع پر جمع تھے۔حضور کا استقبال پُر جوش نعروں سے کیا گیا۔اس روز گرمی اور شدید جس کی وجہ سے سب کا لباس پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔لیکن موسم کی تکلیف کے باوجود حضور نے تقریباً دو گھنٹے تمام احباب سے مصافحہ فرمایا اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے بھی خواتین سے مصافحہ فرمایا۔حضور رات گئے تک احباب کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما رہے۔اور سابق امیر جماعت احمد یہ سیرالیون مکرم مولا نا بشارت احمد بشیر صاحب سے مشورہ فرمایا اور نقشے پر نشاندہی فرمائی کہ کہاں کہاں پر جماعت کے سکول اور میڈیکل سینٹر موجود ہیں تاکہ نئے ادارے کھولنے کے بارے میں منصوبہ بندی کی جاسکے۔اگلے روز حضور نے نماز فجر سکول کے ہال میں ادا کی اور پھر بو میں جماعت کی ایک نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔اس سے پہلے بو میں مشن ہاؤس سے ملحق ایک مسجد موجود ہے۔اس موقع پر حضور نے مساجد کے متعلق اسلامی تعلیمات اور فلسفہ پر مختصر خطاب فرمایا۔شام کو حضور کے اعزاز میں بو کے ٹاؤن ہال میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔اس میں حضور سٹیج پر جانے کی بجائے احباب میں گھل مل کر ان سے گفتگو فرماتے رہے (۴۷)۔۱۱ رمئی کو حضور نے احمد یہ سکینڈری سکول بو کا معائنہ فرمایا۔حضور نے معائنہ کے بعد طلباء میں انعامات تقسیم فرمائے اور اسلامیات میں اول آنے والے طالب علم کو سکول کے انعام کے علاوہ اپنی طرف سے بھی گرانقدر انعام عطا فر مایا۔طلباء سے مختصر خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپ کا مستقبل نہایت درخشندہ اور تابناک ہے لیکن یہ پھل قسمت کے درخت سے ٹوٹ کر خود بخود تمہاری جھولیوں میں نہیں گرے گا