سلسلہ احمدیہ — Page 117
117 کی تیمارداری کی اور لوگوں کی بدسلوکی پر معذرت کی۔اس پر مولانا نذیر احمد صاحب علی نے بڑے یقین کے ساتھ فرمایا۔روجر ز صاحب مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے اور میری بات یا درکھو کہ یہاں احمدیت پھیلے گی اور ابھی آپ زندہ ہوں گے کہ لوگ آپ کے پاس آکر منتیں کیا کریں گے۔جسے آپ پسند کریں گے رکھیں گے اور جسے چاہیں گے انکار کر دیں گے۔پاروجرز آبدیدہ ہو کر بیان کرتے تھے کہ یہ زمانہ میں نے دیکھ لیا۔میں احمد یہ سکول کے بورڈ آف گورنرز کا رکن ہوں۔بڑے بڑے لوگوں کی سفارش لے کر طلباء احمد یہ سکول میں داخلہ کے لئے آتے ہیں اور بعض دفعہ جگہ نہ ہونے کے باعث انکار کرنا پڑتا ہے۔۱۲ مئی کو حضور گوا پس فری ٹاؤن تشریف لے آئے۔اس روز حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے قائم مقام گورنر جنرل صاحب کو عشائیہ پر مدعو فرمایا۔اس میں ان کے علاوہ سیرالیون کے اعلیٰ حکام مختلف ممالک کے سفراء ، نامور مسلمان زعماء اور چرچ کے قائدین بھی شامل ہوئے۔اگلے روز حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اس میں صحافیوں نے مختلف موضوعات پر سوالات کئے۔جیسا کہ بعد میں ذکر آئے گا گیمبیا میں قیام کے دوران حضور کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے القا کے نتیجہ میں تحریک پیدا ہوئی تھی کہ جماعت ان چھ ممالک میں طبی اور تعلیمی خدمات کے لئے ایک لاکھ پونڈ کی رقم خرچ کرے، اللہ تعالیٰ اس میں بہت برکت ڈالے گا۔چنانچہ حضور نے اس پر یس کا نفرنس میں اس منصوبہ کے خدو خال بیان فرمائے۔اور اگلے روز فری ٹاؤن کے اخبار UNITY نے اس منصوبہ کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشادات شائع کئے اور کہا کہ سیرالیون بھی اس منصوبہ سے فائدہ اُٹھائے گا۔(۴۸) ۱۳ مئی کو حضرت خلیفہ اسی کا یہ پہلا دور وافریقہ کامیابی اور کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔دورہ کے اختتام پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے سیرالیون کے امیر ومشنری انچارج مکرم مولانا محمد صدیق گورداسپوری صاحب کی نوٹ بک پر تحریر فرمایا محبت۔ہمدردری غمخواری اور خدمت ہمارا مشن ہے اسی میں ہماری کامیابی ہے اور اسی غرض سے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔مذکورہ صفات سے ان مظلوموں کے دل جیتیں۔اللہ کی رحمت کا قومی ہاتھ آپ کا سہارا بنے۔آمین۔“ (۴۹)