سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 114 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 114

114 یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان مضبوط ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان حاصل ہو۔اس کے بعد حضور نے مساجد کے فلسفہ پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ یہ خدائے واحد کا گھر ہے۔جو شخص خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہے، وہ مسلمان ہو یا نہ ہوا سے حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریق پر فریضہ عبادت ادا کر سکے۔اسکے بعد حضور نے دعا کروائی۔(۴۵) شام کو سیرالیون میں مسلمانوں کی تنظیم مسلم کانگرس کی طرف سے حضور کے اعزاز میں دعوتِ استقبالیہ دی گئی۔جب حضور اس تقریب میں شرکت کے لئے ہال میں داخل ہوئے تو ہر طرف سے اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔تقریب کے آغاز میں مکرم ایم ایس مصطفے پر یذیڈنٹ مسلم کانگرس اور سابق نائب وزیر اعظم سیرالیون نے ایک جذباتی تقریر کی اور پھر مسلم کانگریس کے عبداللہ کول صاحب نے تقریر کی۔اس کے بعد حضور نے خطاب فرمایا۔حضور نے تقریر کے آغاز میں فرمایا کہ میں یہ محسوس کرتا ہوں جیسے میں اپنے بھائیوں کے درمیان بیٹھا ہوں۔میں مسلم کانگریس کے مقررین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ابھی تقاریر فرمائی ہیں۔میں خود کو اس تعریف کے قابل نہیں سمجھتا جو انہوں نے کی ہے۔میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کا ادنی اور حقیر غلام ہوں۔آپ نے فرمایا کہ کماسی میں ایک عیسائی دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔اس نے آپ سے یہاں آتے وقت کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے کیونکہ میں اس کے ادنی ترین خادموں میں سے ہوں۔آپ نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ اسلام کا خدا ایک زندہ اور فعال خدا ہے۔آپ نے سائنسی مثالوں سے واضح کیا کہ انسانی علم اور خدا کا علم برابر نہیں ہو سکتے۔قرآنِ کریم کو اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین بھی قرار دیا ہے اور کتاب مکنون بھی قرار دیا ہے۔بظاہر یہ ایک متضاد بیان ہے مگر اس میں کوئی تضاد نہیں۔کتاب مبین ہر شخص کی سمجھ کے مطابق اس کے لئے ہدایت کا منبع ہے۔کتاب مکنون اس لئے کہ یہ نئے نئے مسائل کا حل بتاتی ہے جو اپنے وقت سے پہلے نظروں سے اوجھل تھے۔حضور نے بڑے جلال سے اعلان فرمایا کہ میں آپ سب کو پوری قوت سے بتادینا چاہتا ہوں کہ اسلام کے غلبے کا حسین دن طلوع ہو چکا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس حقیقت کو ٹال نہیں سکتی۔یہ تقریر اتنی پر اثر تھی کہ اس کے بعد کئی احباب ایک دوسرے سے چمٹ گئے اور آنکھیں پر نم تھیں۔لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد