سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 77 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 77

77 ہے، یہ سب تنظیمیں حضرت مصلح موعودؓ نے قائم فرمائی تھیں۔لیکن ان سب کو یکلخت یا ایک مختصر مدت میں شروع نہیں کیا گیا تھا۔بلکہ سترہ سال کے طویل عرصہ میں ایک ایک کر کے ان کی بنیاد ڈالی گئی تھی مجلس انصار اللہ کا قیام اس سلسلے کی آخری کڑی تھی۔ابتداء میں صرف قادیان میں رہنے والوں کے لئے اس کا ممبر بننالازمی تھا۔قادیان سے باہر رہنے والوں کے لئے اس کا ممبر بننالازمی نہیں تھا البتہ جماعتی عہد یداروں کے لئے اگر وہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے ہوں ضروری تھا کہ وہ اس کے ممبر بنیں۔بعد میں قادیان سے باہر رہنے والوں کے لئے بھی اس کا ممبر بننا لازمی کر دیا گیا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اس نئی تنظیم کا پہلا صدر مقرر کیا گیا۔اور اسی خطبہ میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ تمام ممبران روزانہ آدھا گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں اور اس امر کی نگرانی کریں کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو نماز با جماعت کا پابند نہ ہو۔(۲) حضرت مصلح موعود کے ہر انتظامی فیصلے کے پیچھے گہری حکمت ہوتی تھی اور آپ جماعت کی راہنمائی کے لئے اس حکمت کو بیان بھی فرماتے تھے۔انصار اللہ کے قیام کے وقت آپ نے ان الفاظ میں جماعت کے نظام کی موجودہ ہیئت کی حکمت بیان فرمائی۔اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں۔اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں نظام کو بیدار کرتے رہیں۔تو کوئی وجہ نہیں نظر آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے۔اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔جب بھی ایک غافل ہوگا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہو گا۔جب بھی ایک سست ہوگا دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا۔‘ (۳) آپ نے صرف مجلس انصار اللہ کا آغاز ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کی تدریجی ترقی بھی آپ کی مسلسل نگرانی اور راہنمائی کی مرہونِ منت ہے۔دو سال کے بعد جب آپ نے محسوس فرمایا کہ مجلس انصار اللہ کی ترقی کی رفتار تسلی بخش نہیں ہے تو آپ نے توجہ دلائی کہ بڑی عمر کے تجربے سے فائدہ اُٹھانے کے علاوہ چالیس اور پچپن سال کے درمیان عمر کے انصار کی خدمات سے بھی زیادہ استفادہ کیا جائے۔کیونکہ اس عمر کے لوگ بھاگ دوڑ کا کام زیادہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔اور ارشاد فرمایا کہ