سلسلہ احمدیہ — Page 78
78 خدام الاحمدیہ کی طرح انصار اللہ بھی سال میں ایک مرتبہ اپنا مرکزی جلسہ کیا کرے تاکہ ممبران ایک دوسرے سے مل کر پہلے سے زیادہ ترقی کی طرف قدم اُٹھا سکیں۔(۴) حضور کی منظوری سے دسمبر ۱۹۴۳ء میں انصار اللہ کے دستور اساسی کا اعلان کیا گیا۔(۵) حضور کے ارشاد کی تعمیل میں ۲۵ دسمبر ۱۹۴۴ء کو انصار اللہ کا پہلا اجتماع منعقد ہوا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان الفاظ میں انصار کو توجہ دلائی مجلس کے قیام کو کئی سال گذر چکے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب تک اس مجلس میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اول تنظیم کامل ہو جائے۔دوسرے متواتر حرکت عمل شروع ہو جائے اور تیسرے اس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جائیں۔میں ان تینوں باتوں میں مجلس انصاراللہ کو ابھی بہت پیچھے پاتا ہوں۔(۶) ۱۹۴۷ء کے پُر آشوب دور میں مجلس انصار اللہ کی ترقی بھی متاثر ہوئی۔اپریل ۱۹۴۸ء میں پاکستان میں اس مجلس کا دوبارہ آغاز ہوا۔حضرت مولانا شیر علی صاحب نومبر ۱۹۴۷ء میں انتقال فرما گئے تھے۔حضور نے حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب کو مجلس انصار اللہ کا صدر مقرر فرمایا۔اور نومبر ۱۹۴۰ء میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحب وصدر مجلس انصاراللہ مقر رکیا گیا۔اور آپ نے چار برس تک یہ خدمات سرانجام دیں۔نومبر ۱۹۵۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو مجلس انصاراللہ کا صدر مقررفرمایا۔اور آپ کی فعال قیادت میں یہ مجلس تیزی سے ترقی کی نئی منازل طے کرنے لگی۔(۷) کوئی بھی نظام اُس وقت تک کامیابی سے نہیں چل سکتا جب تک اس کے مختلف حصوں میں ہم آہنگی نہ ہو۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک طرف تو مختلف ذیلی تنظیموں کا آغاز فرمایا اور دوسری طرف ان کے باہمی تعاون کے متعلق بھی راہنمائی فرمائی۔۲۰ جولائی کے خطبہ جمعہ میں آپ کا یہ ارشاد اس ضمن میں مشعل راہ ہے ”میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ چار دیواروں کو میں مکمل کر دوں۔ایک دیوار انصار اللہ ہیں۔دوسری دیوار خدام الاحمدیہ ہیں اور تیسری دیوار