سلسلہ احمدیہ — Page 76
76 مجلس انصار اللہ کا قیام حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اہم کارنامہ نظامِ جماعت کو ہر جہت سے مضبوط بنانا ہے۔سب سے پہلے تو آپ نے صدرانجمن احمدیہ کے انتظام میں بہتری پیدا کرنے کے لئے نظارتوں کا نظام جاری فرمایا۔اس طرح صدر انجمن احمد یہ میں کام مختلف شعبوں میں تقسیم ہو کر سہولت سے چلنے لگا۔اس کے بعد مجلس مشاورت کی داغ بیل ڈالی گئی اور قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق اہم امور کے متعلق سفارشات مرتب کرتے ہوئے مختلف جماعتوں کے مشورے بھی شامل ہونے لگے۔پھر عورتوں کی تربیت اور ان سے خدمت دین کا کام لینے کے لئے لجنہ اماء اللہ کا قیام عمل میں آیا۔اور لجنہ اماء اللہ کے تحت بچیوں کی تربیت کے لئے ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم شروع کی گئی۔نو جوانوں اور بچوں کی تربیت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔نوجوانوں کو منظم کرنے کے لئے حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کا آغاز فرمایا۔اور اس مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت اطفال الاحمدیہ کی مجلس نے کام شروع کیا تا کہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی تربیت منظم طور پر کی جا سکے۔اگر لوگوں کو عمر کے حساب سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے تو ابھی تک ایک گروہ تھا جو کسی بھی ذیلی تنظیم میں شامل نہیں تھا۔چالیس سال سے اوپر کے مردوں کے لئے جماعت میں کوئی بھی ذیلی تنظیم موجود نہیں تھی۔اس عمر کے بعد رفتہ رفتہ جسمانی قوی میں تو کمی آنی شروع ہوتی ہے لیکن علم اور تجربے کی بنیاد پر اس عمر کے لوگ بہت سے کاموں کو جوانوں کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی چالیس سال کی عمر کو پختگی کی عمر قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ ،، یعنی یہاں تک جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا۔(۱)۔اب اس بات کی ضرورت تھی کہ اس عمر کے مردوں کی ایک اپنی تنظیم ہوتا کہ وہ بھی ذیلی تنظیموں کے نظام کا حصہ بن جائیں۔چنانچہ ۲۶ جولائی ۱۹۴۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خطبہ جمعہ میں چالیس سال سے زیادہ عمر کے احمدیوں کی ایک علیحدہ تنظیم بنانے کا اعلان فرمایا۔حضور نے اس نئی تنظیم کو انصار اللہ کا نام عطا فرمایا۔جماعت احمدیہ میں تین ذیلی تنظیموں کا جو نظام آج موجود