سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 694 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 694

694 ہوتے گئے۔ہر طرف سے یا حی یا قیوم کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔مگر خدائی تقدیر کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا تھا اس کے ہیں منٹ کے بعد ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کی صبح ۲ بج کر ۲۰ منٹ پر آپ کو اپنے مولا کا بلاوا آ گیا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔آپ کی پیدائش سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی گئی تھی۔ایک عالم گواہ بنا کہ اس پیشگوئی کے تمام حصے آپ کی جلیل القدر زندگی پر صادق آئے۔جس طرح آپ کی مبارک زندگی کا یہ مقام تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور سے ایک پیشگوئی کی صورت میں اس کا اعلان کروایا۔اور آپ کی ستر سال کی عمر کا ایک ایک لمحہ اس پیشگوئی کی صداقت کا گواہ ہے۔اسی طرح آپ کی وفات دنیا کی تاریخ کا ایک ایسا اہم واقعہ تھی کہ اس پیشگوئی میں آپ کے متعلق تمام بشارات بیان کرنے کے بعد یہ الفاظ آتے ہیں۔تب وہ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔و كَانَ اَمَرامَقضِيًّا۔ے اور ۸ نومبر کی درمیانی شب کو اس اٹل لمحے کا وقت آن پہنچا تھا جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۱۸۸۶ء میں دی گئی تھی۔سب نظریں اپنے پیارے امام کے مقدس چہرے کی طرف لگی ہوئی تھیں۔دل غم سے بھرے ہوئے تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔شدت غم کی وجہ سے کسی کی سکی بلند ہوگئی تو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے جوش سے فرمایا کہ ابتلا ہے ، دعاؤں کا وقت ہے، خاموش رہو۔ایسے موقع پر جب بڑے بڑے بلند حوصلہ مردوں کے دل لرزاں ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عظیم اور مبشر بیٹی کی آواز میں حوصلہ اتنا نمایاں تھا کہ غیر از جماعت ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہو گئے اور بعد میں بھی اُن کے بلند حوصلے کا حیرت سے ذکر کرتے۔ستاون سال قبل ۲۶ مئی کی صبح محشر آفریں کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تھا تو پوری جماعت کو ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا اندھیر ہو گئی ہے۔سب یتیم ہو گئے ہیں۔ہر طرف سے ابتلاؤں کے طوفان نے گھیرے میں لے لیا ہے۔کئی دوستوں نے اپنے جذبات کے طوفان کو روکا ہوا تھا اور کئی بچوں کی طرح بلک بلک کر رو ر ہے تھے۔باہر بہت سے کمینہ خصلت دشمن خوشیاں منا رہے تھے، فرضی جنازے نکال رہے تھے۔اُس وقت حضرت مصلح موعود کی عمر صرف انیس سال تھی۔اس نازک موقع پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازے پر کھڑے ہو کر عہد کیا کہ اگر ساری دنیا