سلسلہ احمدیہ — Page 693
693 دھواں دم گھونٹنے لگتا تھا۔دعا ئیں سب ہونٹوں پر جاری تھیں اور ہر دل اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھا۔حضور پر کبھی غنودگی طاری ہوتی تو کبھی پوری ہوش کے ساتھ آنکھیں کھول لیتے اور اپنی عیادت کرنے والوں پر نظر فرماتے۔ایک مرتبہ بڑی خفیف آواز میں برادرم مرزا ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو بھی طلب فرمایا۔لیکن جیسا کہ مقدر تھا رفتہ رفتہ یہ غنودگی کی کیفیت ہوش کے وقفوں پر غالب آنے لگی اور جوں جوں رات بھکتی گئی غنودگی بڑھتی گئی۔اس وقت بھی گو ہماری تشویش بہت بڑھ گئی تھی لیکن یہ تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حضور کی یہ آخری رات ہے جو آپ ہمارے درمیان گذار رہے ہیں۔(۶) تقریباً نصف شب گزرنے کے بعد حضرت مصلح موعود کی طبیعت تیزی سے خراب ہونے لگی۔اس وقت حضور کے کمرے میں بہت سے عزیز مجسم دعا بنے ہوئے کھڑے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔'حضرت سیدہ ام متین اور سیدہ مہر آپا بائیں جانب سرہانے کی طرف اداسی کے مجسمے بنی ہوئی پٹی کے ساتھ لگی بیٹھی تھیں۔برادرم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب دائیں طرف سرہانے کے قریب کھڑے تھے اور حضرت بڑی پھوپی جان اور حضرت چھوٹی پھوپی جان بھی چار پائی کے پہلو میں ہی کھڑی تھیں۔میرے باقی تمام بھائی اور بہنیں جو بھی ربوہ میں موجود تھے سب وہیں تھے اور باقی اعزاء و اقرباء بھی سب ارد گرد اکھٹے تھے۔سب کے ہونٹوں پر دعا ئیں تھیں اور سب کی نظریں اس مقدس چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔سانس کی رفتار تیز تھی اور پوری بیہوشی طاری تھی۔چہرے پر کسی قسم کی تکلیف یا جد و جہد کے آثار نہ تھے۔میں نے کسی بیمار کا چہرہ اتنا پیارا اور معصوم نظر آتا ہوا نہیں دیکھا (۶) حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے سورۃ یسین کی تلاوت شروع کی۔(۷۶)۔ارد گرد موجود مرد و خواتین مسنون دعاؤں میں مشغول تھے۔حضور نے ایک لمبی اور گہری سانس لی اور یوں معلوم ہوا کہ یہ آپ کا آخری سانس ہے۔پھرایسا معلوم ہوا کہ آپ کا سانس رک گیا ہے۔مگر پھر سانس کی خفیف حرکت شروع ہوئی اور سانس گہرے