سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 692 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 692

692 اور پسینے آنے لگے۔سانس کی تکلیف بھی پہلے کی طرح برقرار تھی۔نبض میں Extrasystole کی وجہ سے بے ترتیبی پیدا ہوگئی۔(۵) لاہور سے آئے ہوئے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب اور ڈاکٹر صادق حسن صاحب اور کراچی سے آئے ہوئے ڈاکٹر ذ کی حسن صاحب نے حضور کا معائنہ کیا اور رائے دی کہ حضور کی حالت گذشتہ چوبیس گھنٹے میں بہت تشویشناک ہوگئی ہے اور دل اور سینہ پر بھی جراثیم کے Toxins کا اثر ہے۔ملک کی معروف پتھالوجسٹ محترمہ ڈاکٹر زینت حسن صاحبہ نے خون کا معائنہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ خون میں انفکشن بہت بڑھ گئی ہے۔نومبر کی صبح ساڑھے نو بجے الفضل کے ضمیمہ میں مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کا اعلان شائع ہوا ، جس کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرعہ درج تھا حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے ریڈیو پاکستان پر بار بار آپ کی علالت کی خبر نشر ہو رہی تھی۔اور آپ کے عشاق بڑی تعداد میں دعائیں کرتے ہوئے ربوہ پہنچ رہے تھے۔نومبر کی شام تک آپ کی طبیعت بہت خراب ہو چکی تھی۔آکسیجن لگی ہوئی تھی۔سینے سے بار بار رطوبت نکالنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، لاہور کے احمدی ڈاکٹر مکرم مسعود احمد صاحب اور کراچی سے آئے ہوئے مکرم ڈاکٹر ذ کی حسن صاحب علاج میں مصروف تھے۔اُس وقت دلوں کی کیا کیفیت تھی اس کا نقشہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ان الفاظ میں کھینچا ہے۔خاندان کے بڑے چھوٹے سبھی کے دل اندیشوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے تا ہم زبان پر کوئی کلمہ بے صبری کا نہ تھا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا تھا۔اندیشے دھوئیں کی طرح آتے اور جاتے تھے۔توکل علی اللہ اور نیک امید غیر متزلزل چٹان کی طرح قائم تھے۔وہ جو صاحب تجربہ نہیں شاید اس بظاہر متضاد کیفیت کو نہ سمجھ سکیں لیکن وہ صاحب تجربہ جو اپنے رب کی قضاء کے اشاروں کو سمجھنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس ہونا نہیں جانتے میرے اس بیان کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔پس افکار کے دھوئیں میں گھری ہوئی ایک امید کی شمع ہر دل میں روشن تھی اور آخر تک روشن رہی تا ہم کبھی کبھی یہ فکر کا