سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 691 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 691

691 ب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا وفات حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کی صحت کچھ سالوں سے مسلسل خراب رہ رہی تھی۔اور اس وجہ سے حضور نماز پڑھانے اور خطبات دینے کے لئے تشریف نہیں لا سکتے تھے۔ا للہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ علاج معالجہ کی ہر ممکن کوششیں جاری رہیں۔اگر افاقہ ہوتا بھی تھا تو وقتی ہوتا۔اکتوبر ۱۹۶۵ء کے آخری دنوں میں حضور کو بخار کی شکایت شروع ہو گئی۔ضعف کے علاوہ غنودگی بھی شروع ہو جاتی۔لمبی علالت کے باعث جسم پر زخم تھے ، جو اس وقت مندمل ہوتے معلوم ہوتے تھے۔خون کے ٹسٹ میں انفکشن کی علامات پائی گئیں۔لاہور سے ایک ماہر ڈاکٹر صادق حسن صاحب نے ربوہ آکر حضور کا معائنہ فرمایا۔پہلے کی طرح حضور کے صاحبزادے مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب حضور کے علاج میں روز و شب مصروف تھے۔(۱)۳۰اکتوبر کوخون کے ٹسٹ بلڈ کلچر کے نتیجے سے معلوم ہوا کہ حضور کو Staphylococci کی انفکشن ہے۔پہلے پھوڑوں کے ٹسٹ میں یہی جراثیم نکلے تھے۔Sensitivity ٹسٹ سے جو دوائیں اس جرثومہ کے لئے مفید پائی گئیں وہ شروع کر دی گئیں۔یہ جراثیم بہت سخت قسم کے ہوتے ہیں اور اس وقت مہیا ادویات اس پر دیر سے اثر کرتی تھیں (۲) یکم نومبر سے بخار کم ہو گیا ۱۰۰ درجہ فارن ہائٹ سے کم رہنے لگا مگرہم نومبر کوخون کے ٹسٹ پر یہ قابل فکر بات سامنے آئی کہ ابھی انفیکشن موجود ہے۔(۳) ۴ رنومبر کی رات کو لاہور سے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ آیا جس میں مکرم ڈاکٹر مسعود احمد صاحب، ڈاکٹر عبد الرؤف صاحب ، ڈاکٹر رستم نبی صاحب اور ڈاکٹر عشرت صاحب شامل تھے۔بورڈ نے حضور کا معائنہ کیا اور ECG اور ایکس رے لے کر رائے دی کہ دل اور سینہ پر کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا۔اگلے روز حضور کو تھوڑی دیر حرارت ہوئی۔مگر ضعف اور سانس کی تکلیف رہی۔(۴)۶ نومبر کو حضور کی طبیعت پھر خراب ہونی شروع ہوئی۔کھانسی شروع ہونے کے علاوہ ضعف میں اضافہ ہو گیا