سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 684 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 684

سیلون: 684 ہم پہلے جائزہ لے چکے ہیں کہ سیلون کی مختصر جماعت کن مراحل سے گذر رہی تھی۔۱۹۵۱ء میں حضرت مصلح موعود کی منظوری سے مکرم و محترم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب بطور مشنری انچارج سیلون بھجوائے گئے۔آپ کو ۱۹۵۸ء تک وہاں پر خدمات کی توفیق ملی۔آپ نے احباب کے استفادے کے لئے کولمبو اور بیگومبو کے مقامات پر چھوٹی چھوٹی لائیبریریاں قائم کیں اور تبلیغ میں وسعت پیدا کرنے کے لئے احمدیت کے خلاف پھیلائے گئے غلط خیالات کے ازالہ کے لئے آپ نے متعدد سوسائیٹیوں، اخبارات اور افسران سے رابطے کئے اور ان حلقوں میں احمدیت کو متعارف کرایا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور قبر مسیح کے متعلق انگریزی ، تامل اور سنہالی زبان میں ٹریکٹ شائع کئے گئے۔۱۹۵۲ء میں سیلون میں پہلی مرتبہ یوم پیشوایان مذاہب کا جلسہ منعقد کیا گیا جس میں تقریباً ۴ ہزار افراد نے شرکت کی۔اب سیلون کی جماعتیں تبلیغی اور تربیتی میدان میں فعال ہو چکی تھیں۔اب دوسرے مشن کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔چنانچہ ۱۹۵۵ء کے اواخر میں سیلون کے مشرق میں Palamunai کے مقام پر دوسرا مشن ہاؤس قائم کیا گیا۔اور مکرم مولوی محمد شمیم صاحب کو اس مشن میں مبلغ مقرر کیا گیا۔آپ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران احمدیت قبول کی تھی اور پھر دوسال قادیان میں دینی تعلیم کے حصول کے بعد آپ نے سیلون میں اپنی عملی خدمات کا آغاز کیا۔۱۹۵۶ء میں سیلون کی حکومت نے سنہالی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا۔اب اس کے بعد ضرورت تھی کہ اس زبان میں جماعت کا لٹریچر شائع کیا جائے۔لیکن مالی وسائل کی کمی اور دیگر مسائل اس راہ میں روک بنے ہوئے تھے۔اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک غیر احمدی مسلمان ڈاکٹر مکرم سلیمان صاحب نے مکرم اسماعیل منیر صاحب سے کہا کہ آپ سنہالی زبان میں اسلامی لٹریچر کیوں نہیں شائع کرتے۔انہوں نے کہا کہ مترجم کی نایابی اور دیگر مسائل راہ میں روک بنے ہوئے ہیں۔اس پر اس غیر احمدی دوست نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔اور آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ پر حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیف کا سنہالی زبان میں ترجمہ خود کیا اور اپنے خرچ پر ہی ان کو چھپوا کر مشن کو بھجوا دیا۔اس کے بعد انہوں نے اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ ایک اور صاحب Mr۔Wadage سے