سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 683 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 683

683 حاصل کی۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہاں پر تبلیغی دورے نہ ہو سکے۔کوالا لمپور سے چالیس میل دور ایک گاؤں جرام میں سماٹرا کے ایک احمدی مقیم تھے جو قادیان میں تعلیم حاصل کر چکے تھے۔وہ کچھ نو جوانوں کو آہستہ آہستہ بتاتے رہتے کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے۔جب یہ نو جوان احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو مکرم غلام حسین صاحب ایاز وہاں گئے اور ان نو جوانوں نے باقاعدہ طور پر بیعت کر کے میں شمولیت اختیار کر لی۔یہ گاؤں ریاست سلانگور میں تھا۔ان کی بیعت کے بعد وہاں پر مخالفت کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔اور علماء کی طرف سے ان احمدیوں کو دھمکیاں ملنے لگیں۔ریاست کے حکمران سلطان سلانگور نے احمدیوں کو اور مخالف علماء کو بلایا۔اس میٹنگ میں جماعت کی طرف سے مکرم مولا نا محمد صادق صاحب نے تقریر کی۔مفتی نے جماعت کو ایک سوالنامہ کا جواب تیار کرنے کا کہا۔اس کا جواب بھجوانے پر سلطان سلانگور کے محل میں ایک اور میٹنگ ہوئی۔پہلے مخالفین نے تقریر کی اور دلائل کی بجائے حاضرین کے جذبات کو بھڑ کانے کی کوشش کی۔جب جماعت کی طرف سے مکرم مولا نا صادق صاحب تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو علماء نے شور مچادیا کہ ان کو تقریر کا موقع نہ دیا جائے ورنہ آپ کی تمام رعیت اور شاید آپ بھی قادیانی ہو جائیں گے۔سلطان نے کہا کہ ان کا جواب سننا چاہئیے لیکن علماء نے شور مچا دیا اور مجبوراً یہ میٹنگ ختم کرنی پڑی۔اس کے بعد جماعت کی مخالفت میں اضافہ ہو گیا۔مئی ۱۹۵۶ء میں محکمہ امور مذاہب کی طرف سے اعلان شائع کیا گیا کہ ہم قادیانیوں سے مباحثہ کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ایک ہفتہ کے بعد خود ہی یہ اعلان شائع کرا دیا کہ قادیانیوں سے مباحثے کا کوئی فائیدہ نہیں۔اسی سال ریاست جوھور کے محکمہ مذاہب کے سر براہ نے مفتی جوھور اور احمدیوں کے درمیان مباحثہ کا اہتمام کرایا لیکن جن مفتی صاحب کو مباحثہ کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ سنگا پور چلے گئے اور مباحثہ سے انکار کر دیا۔اس کا محکمہ مذاہب کے سربراہ پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔فروری ۱۹۶۱ء میں مکرم مولا نا محمد صادق صاحب سنگا پور سے کوالا لمپور منتقل ہوئے اور جون ۱۹۶۲ء تک وہاں پر تبلیغ کرتے رہے۔پھر ان کی جگہ مکرم محمد سعید انصاری صاحب کو مبلغ انچارج مقرر کیا گیا۔۱۹۶۳ء میں وہاں کی جماعت نے کوالا لمپور سے آٹھ میل دور ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کی جس کو مسجد اور مشن ہاؤس کے طور پر استعمال کیا گیا۔