سلسلہ احمدیہ — Page 685
685 کرایا اور اسے بھی اپنے خرچ پر شائع کرایا۔کولمبو مشن نے اسلامی اصول کی فلاسفی کے ترجمہ کی ریب رونمائی منعقد کی۔ملک کے وزیر اعظم بند را نائیکے نے اس موقع پر اپنا پیغام بھجوایا اور ایک ممبر پارلیمنٹ اور پاکستان کے ہائی کمشنر کے علاوہ کثیر تعداد میں احباب نے اس تقریب میں شرکت کی۔اس کے بعد یہاں کی زبانوں میں جماعت کے لٹریچر کی اشاعت ایک نئی تیز رفتاری سے شروع ہوگئی۔پہلے جماعت کا ایک جریدہ Thoothan کے نام سے نکلتا تھا جسے بعد میں بند کرنا پڑا تھا۔۱۹۵۵ء میں اس کا از سر نو اجراء کیا گیا۔اور اب یہ رسالہ انگریزی اور تامل دونوں زبانوں میں نکل رہا تھا۔۱۹۵۷ء میں سنہالی زبان میں ایک رسالہ Doodaya نکلنا شروع ہوا۔اس کے پہلے شمارے کے لئے وزیر اعظم اور وزیر تعلیم دونوں نے پیغامات بھجوائے۔۱۹۵۸ء میں مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب کو سیلون مشن کا انچارج مقرر کیا گیا اور مکرم اسماعیل منیر صاحب مرکز واپس تشریف لے آئے۔مکرم قریشی عبد الرحمن صاحب سیلون میں درگا ٹاؤن کے رہنے والے تھے اور آپ نے قادیان جا کر جامعہ میں تعلیم حاصل کی اور شاہد کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے ۱۹۶۱ء تک سیلون میں خدمات سرانجام دیں اور پھر آپ کو تنزانیہ بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد کچھ عرصہ ویزا نہ ملنے کے باعث ایک عرصہ کوئی مرکزی مبلغ سیلون نہ جاسکا۔(۱) (۱) تاریخ سیلون مشن مرتبه وکالت تبشیر ربوه بلا دعر ببیه فلسطین وشام: ۱۹۳۸ء سے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب اس علاقہ میں مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے اور آپ حیفا ( فلسطین) میں مقیم تھے۔سیاسی حالات کی ابتری کی وجہ سے دمشق کی جماعت میں تنظیم کی کمی پیدا ہورہی تھی۔چنانچہ سید منیر الحصنی صاحب کو دمشق بھجوایا گیا تا کہ جماعت میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا کی جاسکے۔فروری ۱۹۴۰ء میں دمشق کے ایک بارسوخ عالم نے جماعت کے ساتھ مباہلہ کرنے کی حامی بھری۔جماعت کی طرف سے ان کے چیلنج کو قبول کرنے کی اطلاع دے دی گئی لیکن انہوں نے بعض منذ ر خوا ہیں دیکھیں اور بعض لوگوں نے انہیں ڈرایا۔اس پر وہ مباہلہ سے منکر